Bharat Express DD Free Dish

Bengal Man Who Sold Jhalmuri To PM Gets Death Threats: وزیراعظم مودی کو جھال موڑی کھلانے والے بکرم ساؤ کی نیند حرام، پاکستان اور بنگلہ دیش سے مل رہی ہیں دھمکیاں

بکرم ساؤ نے بتایا کہ ان دھمکیوں کی وجہ سے ان کا خاندان شدید ذہنی دباؤ میں ہے اور راتوں کی نیند اڑ چکی ہے۔ انہوں نے اس معاملے کی شکایت مقامی پولیس سے بھی کی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے اور بین الاقوامی نمبروں سے آنے والی دھمکیوں کی مکمل جانچ شروع کر دی گئی ہے۔

کولکاتا: مغربی بنگال کے جھاڑگرام میں وزیراعظم نریندر مودی کو جھال موڑی کھلانے کے بعد اچانک خبروں میں آنے والے دکاندار بکرم ساؤ اب خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بکرم ساؤ کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے نمبروں سے مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں فون اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس کے باعث ان کا پورا خاندان خوفزدہ ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب وزیراعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران جھاڑگرام میں بکرم ساؤ کی دکان پر رک کر جھال موڑی کھائی تھی۔ وزیراعظم نے نہ صرف ان کی دکان سے جھال موڑی خریدی بلکہ کچھ دیر ان سے گفتگو بھی کی تھی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی تھی، جس کے بعد بکرم ساؤ ایک ہی دن میں مشہور ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں جھال موڑی سیاسی نعروں اور بحث کا حصہ بن گئی تھی۔

تاہم شہرت کے ساتھ اب مشکلات بھی بکرم ساؤ کے دروازے پر آ کھڑی ہوئی ہیں۔ بکرم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے ان کے موبائل فون پر بین الاقوامی نمبروں سے مسلسل کالز آ رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے کئی نمبر پاکستان اور بنگلہ دیش کے ہیں۔ ان کے مطابق بعض افراد واٹس ایپ کال کے ذریعے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے اہل خانہ کو بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

بکرم ساؤ نے بتایا کہ ان دھمکیوں کی وجہ سے ان کا خاندان شدید ذہنی دباؤ میں ہے اور راتوں کی نیند اڑ چکی ہے۔ انہوں نے اس معاملے کی شکایت مقامی پولیس سے بھی کی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے اور بین الاقوامی نمبروں سے آنے والی دھمکیوں کی مکمل جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس سائبر سیل کی مدد سے کالز کی تفصیلات اور ان کے ذرائع کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read