مغربی بنگال میں بدعنوانی کے خلاف مرکزی تفتیشی ایجنسیوں نے اب تک کی سب سے بڑی کارروائی شروع کر دی ہے۔ گزشتہ سات دنوں کے دوران جس طرح سابق وزراء اور بااثر پولیس افسران کی گرفتاریاں ہوئی ہیں، اس نے ریاست کی سیاست میں ایک طرح کی ’سونامی‘ برپا کر دی ہے۔سیاسی حلقوں میں اس بات کی چرچا ہے کہ جیسے جیسے ریاستی حکومت کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے، ویسے ویسے بدعنوانی کے الزامات ایک ایک کر کے سامنے آ رہے ہیں۔
11 مئی: سوجیت بوس کی گرفتاری
اس ہفتے کی سب سے بڑی کارروائی 11 مئی کو ہوئی، جب ای ڈی نے ممتا حکومت کے سابق وزیر اور بیدھان نگر کے بااثر لیڈر سوجیت بوس کو گرفتار کر لیا۔ ان پر میونسپل بھرتی گھوٹالے میں کروڑوں روپے کے لین دین اور نااہل امیدواروں کو نوکری دلانے کے سنگین الزامات ہیں۔بتایا جا رہا ہے کہ تقریباً 10 گھنٹے کی طویل پوچھ گچھ کے بعد انہیں سالٹ لیک واقع دفتر سے حراست میں لیا گیا۔ اس گرفتاری کے بعد ٹی ایم سی کے اندر یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ اگلا نمبر کس کا ہوگا۔
14 مئی: ڈی سی شانتنو سنہا بسواس گرفتار
14 مئی کی رات بنگال پولیس کے لیے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں تھی۔ ممتا بنرجی کے قریبی مانے جانے والے کولکاتا پولیس کے ڈپٹی کمشنر شانتنو سنہا بسواس کو ای ڈی نے گرفتار کر لیا۔شانتنو سنہا بسواس کو ریاستی انتظامیہ کا ایک بااثر چہرہ سمجھا جاتا تھا اور ان پر زمین پر قبضہ کرنے اور منی لانڈرنگ جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔تحقیقی ایجنسی کا ماننا ہے کہ پولیس وردی کی آڑ میں رئیل اسٹیٹ کے کالے کاروبار کو تحفظ دیا جا رہا تھا۔ ایک حاضر سروس ڈی سی پی کی گرفتاری نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب کوئی بھی ’محفوظ‘ نہیں ہے۔
15 مئی: سابق وزیر رتھن گھوش سے پوچھ گچھ
آج یعنی 15 مئی کی صبح ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی، جب سابق وزیر رتھن گھوش راشن گھوٹالے کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے ای ڈی دفتر پہنچے۔راشن گھوٹالہ پہلے ہی مغربی بنگال کی سیاست کو شرمندہ کر چکا ہے، جس میں غریبوں کے لیے مختص کروڑوں روپے کا اناج مبینہ طور پر کالے بازار میں پہنچایا گیا۔ رتھن گھوش کی پیشی اس بات کا اشارہ مانا جا رہا ہے کہ اس گھوٹالے کے تار اوپر تک جڑے ہوئے ہیں اور جلد مزید بڑی گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔
’دیدی‘ کے کیمپ میں بے چینی
مسلسل ہو رہی ان کارروائیوں نے ممتا بنرجی کے سیاسی کیمپ میں ہلچل مچا دی ہے۔ گرفتار کیے گئے سوجیت بوس اور شانتنو سنہا بسواس کو ’دیدی‘ کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔اپوزیشن کا الزام ہے کہ بنگال میں اقتدار کی طاقت کے سہارے جو “سنڈیکیٹ راج” چل رہا تھا، اب وہ قانون کے شکنجے میں آ رہا ہے۔ دوسری جانب سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کی گرتی ساکھ اور ای ڈی کے سخت رویے نے ٹی ایم سی کے مستقبل پر بڑے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


