Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Police

بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کی ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے ابتدائی رجحانات نے سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی دو اہم رہنما مہوا موئترا اور سیانی گھوش نے انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کیا، تاہم مجموعی نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اکثریت کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے مقابلہ نہایت دلچسپ ہو گیا ہے۔

ماضی میں مغربی بنگال کے انتخابات اکثر تشدد، بوتھ کیپچرنگ اور ’چھپا ووٹ‘ جیسے الزامات کی وجہ سے خبروں میں رہتے تھے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات اور 2023 کے پنچایت انتخابات کے بعد سامنے آنے والی پرتشدد تصاویر نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا تھا کہ ریاست میں آزادانہ ووٹنگ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم 2026 کے انتخابات میں صورتحال مختلف نظر آئی، جہاں مرکزی فورسز کی موجودگی نے انتخابی ماحول کو نسبتاً پُرامن بنانے میں کردار ادا کیا۔

اتر پردیش کیڈر کے آئی پی ایس افسر اجے پال شرما کے خلاف سنگین الزامات کے تحت شکایت درج کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے جنوبی 24 پرگنہ کے فالٹا علاقے میں رات کے وقت گھروں میں داخل ہو کر خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی اور مقامی افراد کو دھمکایا۔

حکام کے مطابق ریاستی حکومت نے اسمبلی انتخابات کے اعلان سے قبل تقریباً ایک ہزار افراد کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 2,185 پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔ ان میں 832 افراد براہ راست ترنمول کانگریس سے وابستہ تھے جبکہ 144 افراد کو پارٹی کے حامیوں کے طور پر سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ اس پیش رفت پر الیکشن کمیشن نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل اس نوعیت کی تعیناتی انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

مغربی بنگال کے ضلع ساؤتھ 24 پرگنہ کے باسنتی اسمبلی حلقے میں انتخابی مہم کے دوران بی جے پی اور ٹی ایم سی کے حامیوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی، جس میں کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے۔ مقامی پولیس کے مطابق، جھڑپ کے بعد 8 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ساوتھ کلکتہ لا کالج میں طالبہ کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی مخالفت میں جم کرسیاست ہورہی ہے۔ کولکاتا میں بی جے پی اورکانگریس نے احتجاج کئے۔ عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا گیا۔ احتجاج کے دوران پولیس اوربی جے پی کارکنان میں جھڑپ ہوئی۔ پولیس نے ایس آئی ٹی کی تشکیل کی ہے۔

مغربی بنگال میں متنازعہ وقف (ترمیمی) قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ کے بھنگور میں پولیس اور انڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) کے حامیوں کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات ہیں۔

بی جے پی لیڈر ڈاکٹر سکانت مجمدار نے کہا کہ معصوم بچی کے ساتھ پیش آنے والا خوفناک واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انتظامیہ پر ممتا بنرجی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ انتظامیہ مکمل طور پر سیاسی ہو چکی ہے۔

پرگنہ کے مدھیم گرام میں نابالغ لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے الزام میں مشتعل ہجوم نے ملزم کے گھر اور اس کے رشتہ دار کی دکان میں توڑ پھوڑ کی۔ اس دوران پولیس کو بھیڑ پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے کہا کہ دیدی کے مغربی بنگال میں آبروریزی کرنے والوں اور مجرمین کی مدد کرنا تواحترام کی بات ہے، لیکن خواتین کی سیکورٹی کے لئے بولنا جرم ہے۔