Bharat Express DD Free Dish

Weather Update

فضائی آلودگی میں مسلسل اضافے کے سبب ہفتہ کو دہلی اور این سی آر میں ایک بار پھر گریپ-4 کی سخت پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ 21 نومبر 2025 کے احکامات کے تحت لیا گیا ہے اور پورے این سی آر میں فوری طور پر نافذ العمل ہے۔

دھند اور سردی کے درمیان محکمۂ موسمیات نے کچھ راحت کی خبر بھی دی ہے۔ شمال مغربی بھارت میں آئندہ ایک ہفتے تک شدید سرد لہر کا امکان نہیں ہے، جس سے لوگوں کو سخت سردی سے جزوی راحت مل سکتی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اتوار سے کہرے میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔ 20 جنوری تک جزوی بادل اور کہرے کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دہلی کے صفدرجنگ اور آیا نگر علاقوں میں سب سے کم 4.3 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ موسمیات نے آئندہ 72 گھنٹوں کے دوران شمالی بھارت کی 6 ریاستوں میں بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔ 16 سے 20 جنوری کے درمیان جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش میں بارش کا امکان ہے،

پہاڑی ریاستوں کی بات کریں تو کشمیر وادی میں صورتحال نہایت سنگین بنی ہوئی ہے۔ یہاں سردی صرف محسوس ہی نہیں ہو رہی بلکہ صاف نظر بھی آ رہی ہے۔ سرینگر کی عالمی شہرت یافتہ ڈل جھیل کے کئی حصے مکمل طور پر جم چکے ہیں۔

این سی آر کے فرید آباد اور ریواڑی سمیت کئی علاقوں میں پالا پڑا۔ گروگرام میں گھروں کے باہر کھڑی گاڑیوں کے شیشوں پر برف کی باریک تہہ دیکھی گئی اور خشک گھاس بھربھری ہو گئی۔ دیہی علاقوں میں کھیتوں کی منڈیر اور گاڑیوں پر پالا زیادہ واضح نظر آیا۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال میں بننے والے گہرے دباؤ کے اثر سے تمل ناڈو، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک اور کیرالہ میں اگلے 48 گھنٹوں تک موسم سرگرم رہے گا۔ ان ریاستوں کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان ہے۔

پہاڑی علاقوں میں سردی نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ہماچل پردیش کے لاہول اسپیتی ضلع کے تبو میں اس موسم سرما کی سب سے سرد رات ریکارڈ کی گئی، جہاں درجۂ حرارت منفی 10.2 ڈگری سیلسیس تک گر گیا۔ کلپا،

جموں و کشمیر میں سردی سب سے زیادہ شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ گلمرگ میں درجہ حرارت صفر سے 6.5 ڈگری نیچے چلا گیا ہے، جب کہ پہلگام میں بھی پارہ منفی 5 ڈگری کے آس پاس بنا ہوا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ سات دنوں تک شمالی ہندوستان کے کئی حصوں میں گھنے سے انتہائی گھنے کہرے کا امکان ہے۔ پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش، بہار اور راجستھان میں کہرے کا اثر برقرار رہے گا