Bharat Express DD Free Dish

US President Donald Trump

بحرِ ہند میں سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب ایک سنگین بحری واقعہ پیش آیا ہے جہاں امریکہ کی آبدوز نے ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنا کر ڈبو دیا۔ اس حملے میں کم از کم 87 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 32 کو زندہ بچا لیا گیا۔ واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے درمیان بھارت کے لیے ایک اہم اور مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت اور چین کو تیل کی فراہمی بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاکہ خطے میں جاری بحران کے دوران سپلائی میں ممکنہ خلل کا ازالہ کیا جا سکے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران نے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے جواب میں امریکہ اور اسرائیل نے وسیع فوجی کارروائیاں انجام دیں۔

سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کو نشانہ بنائے جانے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں اور سفارتی روایات کے منافی ہیں۔

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی طویل یا غیر معینہ مدت کی جنگ کے خواہاں نہیں ہیں، بلکہ ان کا بنیادی اور واحد مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہ کی سفارتی کوششوں کے بعد صدر اس نتیجے پر پہنچے کہ فیصلہ کن اقدام ہی ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کا مؤثر راستہ ہے۔

بیرون ملک جنگوں میں امریکہ کی سابقہ ناکامیوں کے باعث امریکی عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ رائٹرز-اِپسوس سروے کے مطابق صرف 27 فیصد افراد نے ایران پر حملے کی حمایت کی، جبکہ 43 فیصد اس فیصلے سے متفق نہیں تھے اور 13 فیصد افراد غیر یقینی صورتحال میں تھے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ جنگی مہم آئندہ چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج منصوبہ بندی کے مطابق کارروائیاں انجام دے رہی ہے اور کئی اہم عسکری اہداف کو پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی کئی بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے ہی بھارت اور پاکستان کی جنگ روکائی ہے۔ تاہم، بھارت نے اس دعوے کی مسلسل تردید کی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ انہوں نے اب تک دنیا کے آٹھ بڑے جنگی تنازعات کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم ممکنہ جوہری جنگ میں مداخلت نہ کرتے، تو تین کروڑ افراد کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کی موت ہو جاتی‘‘۔

امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سیکشن 232 کے تحت نئی تحقیقات شروع کر سکتی ہے۔ بڑی بیٹریوں، کیمیکل مصنوعات اور صنعتی آلات پر ممکنہ ٹیرف بھارت جیسے ممالک کی برآمدات کو متاثر کر سکتے ہیں۔