Bharat Express DD Free Dish

US President Donald Trump

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی توانائی بحران سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تیل کمپنیوں کو یقین دلایا جائے کہ آبنائے ہرمز محفوظ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی ان کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک مختصر انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ تقریباً پانچ منٹ پر مشتمل اس گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اب نشانہ بنانے کے لیے بہت کم فوجی اہداف باقی ہیں، اس لیے جنگ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتی۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل اسی سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ اس لیے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی منڈی پر پڑتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی موجودہ صورتحال دراصل امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق مسلسل فوجی اور سفارتی دباؤ نے تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو ”مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا شکست خوردہ“ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران دنیا کے سب سے بڑے کھلاڑی روس نے باضابطہ طور پر میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔ ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ولادیمیر پوتن ایران کا شیلڈ بن کر کھڑے ہوگئے ہیں، جس نے واشنگٹن اور تل ابیب کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

ایران-اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران، ایرانی جہاز آئرس لاون کو تکنیکی خرابی کی وجہ سے بھارت نے کوچی بندرگاہ پر ایمرجنسی ڈاکنگ کی اجازت دی، جبکہ اسی دن ایرانی جہاز آئرس ڈینا پر امریکی حملے میں یہ جنگی جہاز ڈوب گیا، جس سے خطے میں تناؤ بڑھ گیا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوِٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن "آپریشن ایپک فیوری" بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس کے ہدف آئندہ چند ہفتوں میں حاصل ہو سکتے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ فوجی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران نے جواباً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، ترکی اور آذربائیجان سمیت کئی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ تاہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ جب ان ممالک میں امریکی فوجی بیس نہیں تھے تو ایران نے انہیں نشانہ کیوں بنایا؟

امریکہ نے ایران-اسرائیل جنگ کے درمیان بھارت کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے، جس پر ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس نے اس فیصلے کو بھارت کی خودمختاری اور آزادی پر ”کرارا طمانچہ“ قرار دیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ امریکہ کس حیثیت سے بھارت کو یہ اجازت دے رہا ہے۔

عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے بڑھتے خدشات کے درمیان امریکہ نے بھارت کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے اور بھارت اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے۔