Bharat Express DD Free Dish

US President Donald Trump

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک نیا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت آئندہ ایران کے بجائے وینزویلا سے تیل خریدے گا، جس سے نہ صرف کاراکاس کو اقتصادی فائدہ پہنچے گا بلکہ نئی دہلی ایرانی تیل سپلائی سے بھی دور ہو جائے گا۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جہاں انہوں نے ایران کو پہلے سے بھی بڑے حملے کی دھمکی دی، وہیں اب انہوں نے تہران کے ساتھ بات چیت کا عندیہ دے کر اپنے مؤقف میں واضح نرمی دکھائی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیوبا کو غیر معمولی اور سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے قومی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے حکم دیا ہے کہ کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے چھ تباہ کن جنگی جہاز اور ایک ایئرکرافٹ کیریئر پہلے ہی موجود ہیں۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر اتفاقِ رائے نہیں بن سکا ہے۔ ایکسیوس (Axios) کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر سے ہی اس معاہدے کی مخالفت ہو رہی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران کو گھیرنے کی امریکی کوششوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب عراق میں شیعہ اتحاد نے سابق وزیرِ اعظم نوری المالکی کے نام کو ایک بار پھر وزارتِ عظمیٰ کے لیے آگے بڑھا دیا۔ نوری المالکی کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمانی اکثریت کے پیش نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ المالکی آسانی کے ساتھ عراق کے نئے وزیرِ اعظم منتخب ہو سکتے ہیں۔

چین کے معاملے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو ’’گورنر‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کینیڈا ایسا کوئی معاہدہ کرتا ہے تو اس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

امریکہ نے بھارت پر دو مرحلوں میں ٹیرف عائد کیا تھا۔ پہلے 25فیصد ٹیرف لگایا گیا، اور پھر روس سے تیل خریدنے پر مزید 25فیصد کا ٹیرف عائد کر دیا گیا تھا۔

امریکہ باضابطہ طور پر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے الگ ہو گیا ہے۔ طویل عرصے سے جاری انتباہات اور خدشات کے باوجود امریکہ نے تنظیم سے نکلنے کا عمل مکمل کر لیا ہے، جس کے عالمی صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس-یوکرین جنگ کو پیچیدہ قرار دیا اور اسے بائیڈن کی جنگ کہا۔ انہوں نے پوتن اور زیلنسکی کے درمیان سمجھوتے کے امکانات کا بھی اظہار کیا ہے۔