Bharat Express DD Free Dish

US Leaves World Health Organization: ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، عالمی ادارۂ صحت سے امریکہ ہوا باہر، تنظیم کو درپیش سنگین چیلنجز

امریکہ باضابطہ طور پر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے الگ ہو گیا ہے۔ طویل عرصے سے جاری انتباہات اور خدشات کے باوجود امریکہ نے تنظیم سے نکلنے کا عمل مکمل کر لیا ہے، جس کے عالمی صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن/جنیوا: امریکہ باضابطہ طور پر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے الگ ہو گیا ہے۔ طویل عرصے سے جاری انتباہات اور خدشات کے باوجود امریکہ نے تنظیم سے نکلنے کا عمل مکمل کر لیا ہے، جس کے عالمی صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکہ اب تک ڈبلیو ایچ او کا سب سے بڑا مالی معاون تھا، اس لیے اس فیصلے نے تنظیم کو شدید مالی بحران میں دھکیل دیا ہے اور اس کے سامنے انتظامی و عملی سطح پر بڑے چیلنجز کھڑے ہو گئے ہیں۔ امریکی حکومت نے جمعرات کو باضابطہ طور پر عالمی ادارۂ صحت سے علیحدگی کے عمل کی تکمیل کا اعلان کیا۔ اس سے قبل ایک سال تک مختلف حلقوں کی جانب سے خبردار کیا جاتا رہا کہ اگر امریکہ اس عالمی ادارے سے الگ ہوتا ہے تو نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں صحت عامہ کے نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کووِڈ-19 وبا کے دوران ڈبلیو ایچ او کے کردار اور مبینہ انتظامی ناکامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025 میں اپنے صدارتی دور کے پہلے ہی دن ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے امریکہ کو ڈبلیو ایچ او سے باہر نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی محکمہ صحت اور محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان کے مطابق، اب امریکہ عالمی ادارۂ صحت کے ساتھ صرف اتنا ہی محدود تعاون رکھے گا، جو تنظیم سے مکمل طور پر علیحدگی کے قانونی اور انتظامی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے بعد امریکہ کا ڈبلیو ایچ او کے ساتھ کوئی باضابطہ تعلق باقی نہیں رہے گا۔ ایک سینئر امریکی صحت عہدیدار نے واضح کیا کہ امریکہ کے پاس نہ تو بطور مبصر ڈبلیو ایچ او میں شامل رہنے کا کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی مستقبل میں دوبارہ اس تنظیم کا حصہ بننے کا ارادہ۔ امریکی حکومت کے مطابق، اب وہ بیماریوں کی نگرانی، وبائی امراض سے نمٹنے اور دیگر صحت عامہ کی ترجیحات پر عالمی اداروں کے بجائے براہ راست دوسرے ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعاون کے ذریعے کام کرے گی۔

امریکی قانون کے مطابق، کسی بین الاقوامی تنظیم سے نکلنے کے لیے ایک سال پہلے نوٹس دینا اور واجب الادا رقوم کی ادائیگی کرنا ضروری ہے۔ اس معاملے میں امریکہ پر ڈبلیو ایچ او کے تقریباً 26 کروڑ ڈالر کے بقایاجات تھے۔ تاہم، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے اس بات سے اختلاف کیا کہ تنظیم سے نکلنے سے پہلے مکمل ادائیگی لازمی ہے۔ ایک ترجمان نے ای میل کے ذریعے کہا کہ امریکی عوام پہلے ہی اس تنظیم کو خطیر رقم ادا کر چکے ہیں اور مزید ادائیگی کی ضرورت نہیں۔ اسی دوران امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات (ایچ ایچ ایس) نے ایک دستاویز جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ عالمی ادارۂ صحت کو دی جانے والی تمام امریکی فنڈنگ بند کر دی گئی ہے۔ محکمے کے ترجمان کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کو مستقبل میں کسی بھی قسم کی امریکی سرکاری امداد فراہم کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اس تنظیم سے امریکہ کو مالی اور اسٹریٹجک نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

جمعرات کے روز جنیوا میں واقع عالمی ادارۂ صحت کے ہیڈکوارٹر کے باہر سے امریکی پرچم بھی ہٹا دیا گیا، جو اس علیحدگی کی ایک علامتی مگر اہم تصویر بن گئی۔ حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے اقوام متحدہ کی چند دیگر ایجنسیوں سے بھی نکلنے کے عمل کا آغاز کیا ہے، جس سے عالمی سطح پر امریکا کے کثیرالجہتی کردار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے بعض ناقدین نے تجویز دی ہے کہ اب ایک نئی عالمی صحت ایجنسی تشکیل دی جانی چاہیے، جو زیادہ شفاف اور مؤثر انداز میں کام کر سکے۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ کے گزشتہ سال سامنے آنے والے ایک داخلی دستاویز میں یہ رائے بھی دی گئی تھی کہ امریکہ کو ڈبلیو ایچ او سے مکمل علیحدگی کے بجائے تنظیم میں اصلاحات کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے اور وہاں امریکی قیادت کو مضبوط بنانا چاہیے۔ اس دوران متعدد عالمی صحت ماہرین نے بھی امریکہ سے اس فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی تھی، مگر حکومت نے ان اپیلوں کو نظرانداز کیا۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، امریکہ نے 2024 اور 2025 کے لیے واجب الادا رقوم اب تک ادا نہیں کیں۔ تنظیم کے ایک ترجمان نے بتایا کہ فروری میں ہونے والی ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ میں امریکہ کی علیحدگی اور اس کے اثرات پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔ اس میٹنگ میں تنظیم کی آئندہ حکمت عملی اور مالی استحکام کے لیے ممکنہ اقدامات پر بھی غور متوقع ہے۔ واشنگٹن میں قائم جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے اونیل انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ لا کے بانی ڈائریکٹر لارنس گوسٹن نے کہا کہ یہ اقدام امریکی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے، تاہم اس کے باوجود صدر ٹرمپ کے لیے اس فیصلے کے قانونی نتائج سے بچ نکلنے کے امکانات موجود ہیں۔ امریکہ کے باہر نکلنے سے عالمی ادارۂ صحت کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ تنظیم کو اپنی مینجمنٹ ٹیم نصف تک کم کرنی پڑی ہے اور کئی عالمی پروگراموں کا دائرہ محدود کر دیا گیا ہے۔ بجٹ میں وسیع پیمانے پر کٹوتی کی گئی ہے، کیونکہ امریکہ تنظیم کے کل بجٹ کا تقریباً 18 فیصد فراہم کرتا تھا۔ ڈبلیو ایچ او نے عندیہ دیا ہے کہ رواں سال کے وسط تک اسے اپنے تقریباً ایک چوتھائی عملے کو فارغ کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر بیماریوں سے نمٹنے اور صحت عامہ کے منصوبوں پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read