Bharat Express DD Free Dish

UP politics 2027

اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 سے قبل سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے برہمن ووٹروں کو اپنے حق میں کرنے کے لیے بڑا سیاسی داؤ کھیلا ہے۔ 5 اگست کو لکھنؤ میں مجوزہ ’برہمن سمیلن‘ کے ذریعے سماجوادی پارٹی بی جے پی کے روایتی ووٹ بینک میں نقب لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔

یوپی کی سیاست میں ایک طرف جہاں این ڈی اے میں شامل پارٹیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک ساتھ ہیں۔ وہیں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) لیڈرکے ایک بیان نے اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

ڈومریاگنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے اسدالدین اویسی کی للکار پر سخت پلٹ وارکیا ہے۔ انہوں نے اسدالدین اویسی سے متعلق کہا کہ انہوں نے مہاراجہ سہیل دیو سے منسلک سرزمین پر ایک حملہ آور کی تعریف کرکے اپنی انتخابی مہم شروع کی ہے۔ یہ خوشنودی کی سیاست ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم اورنفرت پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

یوپی میں سال 2027 میں الیکشن مجوزہ ہے۔ اس سے پہلے ایک ایسی تصویر سامنے آئی ہے، جس نے پروانچل کے مئوضلع میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس کا اثر سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی پربھی پڑ سکتا ہے۔

سماجوادی پارٹی نے اے آئی ایم آئی ایم کے ان الزامات پرجواب دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو مسلمانوں کواپنا غلام سمجھتے ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم لیڈران کے اس بیان پرمئو ضلع کی گھوسی لوک سبھا انتخابی حلقہ سے رکن پارلیمنٹ اورسماجوادی پارٹی کے لیڈرراجیورائے نے ردعمل دیا ہے۔

گورکھپورمیں ایک ریلی میں وزیرسنجے نشاد کے روتے ہوئے ایک ویڈیو نے اتر پردیش کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں واپسی کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ رہیں گے۔ نشاد پارٹی کے سربراہ نے ایس سی تحفظات کے اپنے مطالبے کو دہرایا اورایس پی اوربی ایس پی پرالزام لگایا کہ وہ نشاد برادری کو ان کے حقوق سے محروم کررہے ہیں۔

پریاگ راج میں ماگھ میلے کے دوران شنکراچاریہ اوی مکتیشورانندسے متعلق تنازع اور نوئیڈا میں ایک انجینئر نوجوان کی ڈوبنے سے ہونے والی موت نے یوگی حکومت کو بیک فٹ پر لا دیا ہے۔ اپوزیشن مسلسل حکومت سے سوالات کر رہی ہے۔

اتر پردیش کی سیاست میں کانگریس ایک بار پھر خود کو مضبوط کرنے کی کوشش میں مصروف عمل نظر آرہی ہے۔ آنے والے پنچایت انتخابات اور 2027 کے اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔

آزاد سماج پارٹی نے دلت، پسماندہ اور مسلم ووٹرز کو ساتھ لے کر الگ اتحاد بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ پیر کو لکھنؤ میں سابق وزیر سوامی پرساد موریہ سے ملاقات کے بعد چندر شیکھر آزاد نے نئے اتحاد کے قیام کے اشارے دے دیے ہیں۔ وہ تھرڈ فرنٹ بنانے کے اقدامات کرتے نظر آ رہے ہیں۔