مہاراجہ سہیل دیوکی ذات کی شناخت پرسیاسی بحث ایک بارپھرتیزہوگئی ہے۔ اوم پرکاش راج بھر، اترپردیش کی یوگی حکومت میں ایک وزیراورسہیل دیوبھارتیہ سماج پارٹی کے قومی صدر، طویل عرصے سے دعوی کرتے رہے ہیں کہ مہاراجہ سہیل دیو کا تعلق راج بھربرادری سے تھا۔ وہیں حال ہی میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے اترپردیش کے ریاستی صدر شوکت علی کے ذریعہ مہاراجہ سہیل دیوکوپاسی سماج سے جوڑنے کے بیان کے بعد یہ موضوع پھرسرخیوں میں آگیا ہے۔ اس کے بعد پاسی سماج کی سیاست کرنے والے لیڈران نے بھی انہیں اپنے سماج کا بتایا۔
اے آئی ایم آئی ایم لیڈرکے بیان پراب این ڈی اے کے دولیڈرآپس میں ٹکراتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔ مہاراجہ سہیل دیوکے ذات سے متعلق شروع ہوئی سیاست پرسہیل دیوبھارتیہ سماج پارٹی کے قومی صدراوریوگی حکومت میں وزیراوم پرکاش راج بھرنے کہا کہ کسی راجہ یا عظیم شخصیت کوذات تک محدود نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بھگوان رام ایک چھتریہ قبیلے میں پیدا ہوئے تھے، لیکن وہ پورے سماج کے ہیں، اسی طرح مہاراجہ سہیل دیوہرکسی کی طرف سے احترام کے مستحق ہیں۔ تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ مہاراجہ سہیل دیو پورے سماج میں پیدا ہوئے تھے اورانہیں تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
مہاراجہ سہیل دیواورسید سالارمسعود کی مشہورکہانی
مہاراجہ سہیل دیواورسید سالارمسعود کی مشہورتاریخی کہانی کا حوالہ دیتے ہوئے اوم پرکاش راج بھرنے کہا کہ جب بہت سے مقامی حکمران غیرملکی حملے کے دوران پیچھے ہٹ گئے تو مہاراجہ سہیل دیونے ارد گرد کے بادشاہوں کومنظم کیا اورجوابی جنگ کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سید سالارمسعود کو10 جون 1034 کوکوٹلہ ندی کے کنارے لڑی گئی لڑائی میں شکست ہوئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ 25 سالوں میں، انہوں نے اوران کے ساتھیوں نے مہاراجہ سہیل دیوکووسیع پیمانے پرپہچان دلانے کے لئے کام کیا ہے۔
ایل جے پی (رام ولاس) نے کیا کہا؟
دوسری جانب، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس پاسوان) کے لیڈراورلوک سبھا ایم پی ارون بھارتی نے کہا کہ اترپردیش کی تاریخ میں پاسی-پاسوان راجاوں کیکی شاندارروایت رہی ہے اور پاسی برادری صدیوں سے مہاراجہ سہیل دیوکواپنا ہیرومانتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراجہ سہیل دیوصرف کسی ایک برادری کے نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے فخراورعزت نفس کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق، اگردوسری برادریاں بھی انہیں اپنا مانتی ہیں، تویہ ان کی وسیع پیمانے پرقبولیت کی عکاسی کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



