Bharat Express DD Free Dish

Om Prakash Rajbhar

اتر پردیش کو 4 حصوں میں تقسیم کرنے کے اوم پرکاش راج بھر کے بیان پر سابق رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کا محتاط ردعمل، کہا— پہلے تحقیق اور دلیل دیکھنی ہوگی

سماجوادی پارٹی کے لیڈرشیوپال یادو نے اوم پرکاش راج بھر کے سماجوادی پارٹی میں انتشار کے دعووں کو از سرنو خارج کیا ہے۔ انہوں نے راج بھرپر بی جے پی کے لئے جھوٹ اور سازش پھیلانے کا الزام لگایا۔ شیوپال یادو نے زور دے کر کہا کہ سماجوادی پارٹی متحد ہے اور 2027 کے اسمبلی الیکشن میں اکھلیش یادو کی قیادت میں حکومت بنائے گی۔

یوپی کے وزیر اوم پرکاش راج بھر کا دعویٰ، رام گوپال یادو نے ایک فہرست تیار کرکے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو سونپ دی ہے۔ راج بھر کے اس دعوے پر اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ ’’آخر یہ کہانی کب تک چلتی رہے گی؟‘‘

یوپی کے کابینی وزیراور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر نے دعویٰ کیا ہے کہ سماجوادی پارٹی میں جلد ہی بڑی ٹوٹ ہوسکتی ہے۔ راج بھر نے کہا کہ لوگوں کو مہاراشٹر اور مغربی بنگال کو بھول جانا چاہئے کیونکہ پوری سماجوادی پارٹی بی جے پی میں شامل ہونے کے لئے تیار ہے۔

یوپی کی سیاست میں ایک طرف جہاں این ڈی اے میں شامل پارٹیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک ساتھ ہیں۔ وہیں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) لیڈرکے ایک بیان نے اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

یوپی میں سال 2027 میں الیکشن مجوزہ ہے۔ اس سے پہلے ایک ایسی تصویر سامنے آئی ہے، جس نے پروانچل کے مئوضلع میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس کا اثر سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی پربھی پڑ سکتا ہے۔

یہ معاملہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران پیش آیا تھا، جب راج بھر کی پارٹی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کی جانب سے رتن پورہ بازار میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اس جلسے میں راج بھر نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی جے پی کے لوگ ووٹ مانگنے آئیں تو انہیں جوتوں سے مارا جائے۔

اتر پردیش کے کابینہ وزیر اور سُبھاسپا کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر نے بلیا میں ایک پروگرام کے دوران سماجوادی پارٹی، کانگریس اور اکھلیش یادو پر شدید حملہ کیا ہے۔

اتر پردیش میں ایک نیا تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ کے وزیر اور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر نے اپنی ایک نئی فوج تشکیل دینے کا اعلان کیا، جس کا نام ’راشٹریہ سہیل دیو سینا (آر ایس ایس)‘ رکھا گیا ہے۔ نام کے باعث اس تنظیم کی موازنہ سیدھے طور پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے کی جانے لگی ہے، جس سے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔

اتر پردیش حکومت میں وزیر اور سبھا ایس پی کے صدر اوم پرکاش راج بھر نے کہا ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ذات پات کی مردم شماری کی بات کی ہے۔ ہم ان کی حمایت کرتے ہیں۔