اتر پردیش کے بلرام پور ضلع کے معروف فیروزپپوقتل کیس میں سابق رکن پارلیمنٹ اورسماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈررضوان ظہیر، ان کی بیٹی زیبا رضوان اورداماد رمیزنعمت کو ایم پی-ایم ایل اے کورٹ سے بری کئے جانے کے بعد بلرام پورکی سیاست میں ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد جہاں رضوان ظہیرکے حامی خوشیاں منا رہے ہیں، وہیں دوسری جانب تلسی پور نگر پنچایت کے سابق چیئرمین فیروزپپوکے بھائی افروزخان نے سوشل میڈیا پرویڈیوجاری کرکے عدالت کے فیصلے پرسوال اٹھائے ہیں۔
افروز خان نے کہا کہ ان کی لڑائی ابھی جاری رہے گی۔ افروز خان نے اپنے ویڈیو میں معاملے سے متعلق کئی سوالات اٹھائے اور کہا کہ عدالت کے فیصلے کے باوجود وہ اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے کو لے کر بحث مزید تیزہوگئی ہے۔ وہیں عدالت سے بری ہونے کے بعد تلسی پوراسمبلی حلقے کی سابق امیدوار زیبہ رضوان نے صحافیوں سے بات چیت کی۔ اس دوران انہوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنے خاندان کو درپیش مشکلات کا ذکرکیا اورکہا کہ اب عدالت سے انہیں انصاف مل گیا ہے۔ زیبہ رضوان نے کہا کہ 2022 کے اسمبلی انتخابات کے دوران جب وہ اور ان کے خاندان کے افراد جیل میں تھے، تب بھی عوام نے ان پربھروسہ ظاہرکیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب جب عدالت سے انصاف مل گیا ہے تو وہ ایک بار پھر عوام کے درمیان جائیں گی اورعوام ہی اس کا جواب دیں گے۔
دو ملزمان قصوروار، رضوان ظہیرسمیت تین بری
آپ کو بتا دیں کہ معروف فیروز پپو قتل کیس میں ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے دو ملزمان میراج الحق اور محفوظ کو قصوروار قرار دیا ہے۔ وہیں سابق رکن پارلیمنٹ رضوان ظہیر، ان کی بیٹی زیبا رضوان اور داماد رمیز نعمت کو عدالت نے بری کر دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب اس کے اثرات بلرام پور کی سیاست پر بھی نظر آنے لگے ہیں۔ خاص طور پر تلسی پور اسمبلی حلقے میں سیاسی حالات اور ممکنہ نئے سیاسی اتحاد و صف بندی کو لے کر بحث تیز ہو گئی ہے۔
کیا دوبارہ سرگرم ہوں گے رضوان ظہیر؟
رضوان ظہیرطویل عرصے سے بلرام پورکی سیاست میں ایک بااثرنام رہے ہیں۔ خاص طورپرتلسی پورعلاقے میں ان کی سیاسی گرفت اورسرگرمیاں ہمیشہ زیربحث رہی ہیں۔ گزشتہ تقریباً 4 برس سے قتل کے اس معاملے کی وجہ سے ان کی سیاسی سرگرمیاں متاثررہی ہیں۔ اب عدالت سے بری ہونے کے بعد ان کے لیے دوبارہ فعال سیاست میں واپسی کی راہ آسان ہو سکتی ہے۔ اگر رضوان ظہیر اور ان کا خاندان ایک بار پھر پوری طاقت کے ساتھ سیاست میں سرگرم ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سماج وادی پارٹی کی مقامی سیاست پر پڑ سکتا ہے۔ ان کے حامی عدالت کے فیصلے کو بڑی راحت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں آنے والے دنوں میں ان کے عوامی پروگراموں اور سیاسی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
بلرام پورکی سیاست میں ہوگی تبدیلی!
بلرام پور میں سماج وادی پارٹی کی سیاست میں رضوان ظہیر کا اپنا اثر رہا ہے۔ وہ پارٹی کے پرانے اور سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافے سے ضلع میں ایس پی کی تنظیم اور مقامی سیاسی حالات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم یہ دیکھنا بھی اہم ہوگا کہ سماج وادی پارٹی کی اعلیٰ قیادت آنے والے دنوں میں رضوان ظہیر کے سیاسی کردار کو کس طرح دیکھتی ہے۔ مقامی سطح پر پہلے سے موجود سیاسی حالات کے درمیان ان کی فعال واپسی کچھ رہنماؤں کے لیے چیلنج بھی بن سکتی ہے۔
حامیوں میں خوشی، مخالفین کے سوالات برقرار
عدالت کے فیصلے کے بعد جہاں رضوان ظہیر کے حامی اسے بڑی قانونی راحت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، وہیں دوسری جانب فیروز پپو کے خاندان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات نے اس معاملے کو ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا عدالت سے بری ہونے کے بعد رضوان ظہیر اور ان کا خاندان ایک بار پھر بلرام پور کی فعال سیاست میں واپسی کرے گا؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو تلسی پور سمیت پورے بلرام پور ضلع کے سیاسی حالات میں تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں رضوان ظہیر کی سیاسی سرگرمیاں اور سماج وادی پارٹی کا موقف اس پورے معاملے کے حوالے سے کافی اہم ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



