Urdu Conclave 2026

UP Assembly Election 2027: سماجوادی پارٹی کی سیاست میں بڑا یو ٹرن! ملائم کی ’اینٹی اپر کاسٹ‘ شبیہ سے اکھلیش کی ’برہمن جوڑو مہم‘ تک

اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 سے قبل سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے برہمن ووٹروں کو اپنے حق میں کرنے کے لیے بڑا سیاسی داؤ کھیلا ہے۔ 5 اگست کو لکھنؤ میں مجوزہ ’برہمن سمیلن‘ کے ذریعے سماجوادی پارٹی بی جے پی کے روایتی ووٹ بینک میں نقب لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔

اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے برہمن رہنماؤں کے ساتھ اہم میٹنگ کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی 5 اگست کو لکھنؤ میں جنیشور مشرا کی جینتی کے موقع پر ایک عظیم الشان برہمن جن سبھا منعقد کرنے جا رہی ہے۔ اس میٹنگ کے بعد سیاسی حلقوں میں کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آخر بی جے پی سے ایسی کون سی غلطیاں ہوئیں جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پی ڈی اے (پچھڑا، دلت، اقلیت) کی سیاست کرنے والی سماجوادی پارٹی اب برہمن ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اتر پردیش میں 2027 میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس سے قبل سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اپنی جماعت کے برہمن رہنماؤں کو متحد کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ مسلسل ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اگرچہ انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کی جانب سے مختلف طبقات کے رہنماؤں سے ملاقاتیں معمول کی بات ہوتی ہیں، لیکن سوشل جسٹس اور پسماندہ طبقات کی سیاست کے لیے مشہور سماجوادی پارٹی کی جانب سے برہمن قیادت پر خصوصی توجہ کو ایک بڑا اور غیر معمولی سیاسی قدم سمجھا جا رہا ہے۔

اس ملاقات کو محض ایک رسمی اجلاس نہیں مانا جا رہا۔ اتر پردیش کی سیاست میں عام تاثر یہ رہا ہے کہ برہمن ووٹر بڑی حد تک بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کے سیاسی رجحان میں تبدیلی کا امکان کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکھلیش یادو کی یہ حکمت عملی سیاسی مبصرین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

برہمن طبقہ بی جے پی سے کیوں ناراض ہے؟

اتر پردیش کے پریاگ راج میں کچھ عرصہ قبل پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے دو معروف مذہبی شخصیات، سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی اور بٹک مہاراج، کے ساتھ کیے گئے سلوک پر برہمن سماج میں ناراضی پائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ برہمن طبقے کا الزام ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت میں سرکاری افسران کی تقرریوں اور تبادلوں کے معاملات میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔یوگی حکومت میں نائب وزرائے اعلیٰ برجیش پاٹھک اور منوج پانڈے کو بی جے پی کے اہم برہمن چہروں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دونوں رہنما اصل میں سماجوادی پارٹی سے بی جے پی میں شامل ہوئے تھے، اس لیے برہمن طبقے کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے۔

ملائم سنگھ کی سیاست سے اکھلیش کے PDA ماڈل تک

دوسری جانب سماجوادی پارٹی کی بنیاد ہی پسماندہ طبقات (او بی سی)، دلتوں اور اقلیتوں کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر لانے کے مقصد سے رکھی گئی تھی۔ ملائم سنگھ یادو نے پارٹی کو اسی نظریے کے تحت مضبوط کیا تاکہ سیاست میں اعلیٰ ذاتوں کی بالادستی کو چیلنج کیا جا سکے۔آج بھی اکھلیش یادو پی ڈی اے (پچھڑا، دلت، اقلیت) کے نعرے کے ساتھ سیاست کر رہے ہیں، جس کے تحت پارٹی کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں 37 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔

پسماندہ طبقات کی سیاست کے درمیان برہمنوں کو لبھانے کی کوشش

اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جو جماعت ہمیشہ پسماندہ طبقات اور دلتوں کی نمائندہ سمجھی جاتی رہی، وہ اچانک برہمن ووٹروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کیوں سرگرم ہو گئی ہے؟ اکھلیش یادو پہلے برہمن رہنماؤں کے ساتھ خصوصی میٹنگ کر چکے ہیں اور اب 5 اگست کو لکھنؤ کے جنیشور مشرا پارک میں ایک بڑے ’برہمن سمیلن‘ کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ قدم سماجوادی پارٹی کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ پی ڈی اے ووٹ بینک کو برقرار رکھتے ہوئے اعلیٰ ذاتوں، خصوصاً برہمنوں، میں بھی اپنی سیاسی قبولیت بڑھانا چاہتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read