Bharat Express DD Free Dish

Umar Khalid

یہ مقدمہ 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے جڑا ہے جو شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور قومی رجسٹر برائے شہری (NRC) کے خلاف احتجاج کے دوران پھوٹ پڑے تھے۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ شرجیل امام کو پولیس نے یو اے پی اے کے تحت گرفتار کر کے اس معاملے میں ’’مرکزی سازش کار‘‘ قرار دیا تھا۔

ملک کی سپریم کورٹ نے آج فروری2020 کے دہلی فسادات میں مبینہ سازش سے متعلق یواے پی اے کیس میں کارکنوں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اورمیران حیدرکی درخواستوں پرسماعت کی۔ سپریم کورٹ نے ان ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پردہلی پولیس کونوٹس جاری کیا۔ کیس کی اگلی سماعت 7 اکتوبرکوہوگی۔

دہلی ہائی کورٹ نے 2 ستمبر کو عمر خالد سمیت آٹھ دیگر ملزمان — شرجیل امام، محمد سلیم خان، شفا الرحمان، عاطف خان، میران حیدر، شاداب احمد، عبدالخالد سیفی اور گلفشہ فاطمہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ شرجیل امام اور گلفشہ فاطمہ بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔

پراسیکیوشن کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ ’’خود رو‘‘ یا اتفاقیہ فسادات کا نہیں بلکہ ’’منصوبہ بند، بدنیتی پر مبنی اور گہری سازش‘‘ کا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر بھارت کو بدنام کرنا تھا۔

عمرخالد اور میران حیدرکودہلی فساد معاملے میں عدالت سے ضمانت نہیں مل پائی ہے۔ ان کے معاملے میں دسمبرمہینے میں پھر سماعت ہونی ہے۔

جیل میں بند کارکنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ وہ اس علاقے سے آئے ہیں جہاں آر ایس ایس کو اس کی "نرسری" کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ''میں انہیں ہمیشہ قریب سے جانتا ہوں۔ وہ نہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی آئین پر۔

دہلی ہائی کورٹ میں جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس امت شرما کی عدالت میں عمرخالد کی ضمانت عرضی کا معاملہ لسٹیڈ تھا، لیکن اب جسٹس امت شرما نے اس معاملے سے خود کوالگ کرلیا ہے۔ جسٹس امت شرما کے الگ ہونے کے بعد سماعت ملتوی ہوگئی ہے۔

مارکنڈے کاٹجو نے لکھا، سنجیو بھٹ ایک سینئر آئی پی ایس پولیس افسر تھے۔ گجرات حکومت نے انہیں 1996 کے ایک پرانے کیس میں جھوٹے الزامات میں گرفتار کر کے سزا سنائی۔ وہ 2018 سے جیل میں ہیں۔

عمر خالد، شرجیل امام سمیت کئی لوگوں کے خلاف یو اے پی اے اور دیگر دفعات کے تحت فروری 2020 میں دہلی میں ہونے والے فسادات میں سازش کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ کنہیا کمار اور عمر خالد کی لڑائی ایک جیسی ہے۔ عمر خالد چاہتے ہیں کہ کنہیا کمار جیتے۔ وہ کہتے ہیں، کنہیا کمار جو لڑائی لڑ رہا ہے وہی عمر خالد بھی لڑ رہا ہے۔