دہلی فسادات 2020 کے اہم ملزم شرجیل امام، عمر خالد اور گلفشاں فاطمہ کی ضمانت عرضی پر سپیریم کورٹ میں زبردست بحث ہوئی۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کے روز2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات معاملے میں سازش کرنے کے ملزمین عمرخالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اوردیگرکارکنان کی ضمانت عرضی پرسماعت کی۔ یہ سبھی طلبا لیڈرغیرقانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یواے پی اے) کے تحت جیل میں بند ہیں۔ عدالت میں جسٹس اروند کماراورجسٹس این وی انجاریا کی بینچ نے بچاوفریق کی دلیلیں سنیں۔ سماعت بدھ کے روزبھی جاری رہے گی۔
زبردست جرح کے درمیان بچاوفریق نے دلیل دی کہ ٹرائل میں تاخیرکی بنیاد پرضمانت ملنی چاہئے۔ سپریم کورٹ کے کئی فیصلے ایسا کہتے ہیں۔ انہوں نے پانچ سال جیل میں گزارے ہیں اور تقریباً پوری سزا کاٹ لی ہے۔ اس میں کہا گیا کہ 2698 صفحہ کی بڑی چارج شیٹ میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ ملزم نے حکومت بدلنے کی کوشش کی، یہ نام خراب کرنے کی کوشش ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پراسیکیوشن کا مقصد ملزم کوکسی بھی طرح جیل میں رکھنا ہے۔
ہرسطح پربغیرکسی ثبوت کے الزام
دلیل دی گئی کہ پراسیکیوٹرکا مقصد ملزم کوکسی بھی طرح ہمیشہ کے لئے جیل میں رکھنا نہیں ہونا چاہئے۔ صرف تقریرنہیں، انہیں سزا ثابت کرنے کے لئے مزید ثبوت بھی دکھانے ہوں گے۔ اس میں وہ ناکام ہوگئے ہیں۔ وہیں ملزم گلفشاں فاطمہ کے وکیل ابھیشیک منوسنگھوی نے کہا کہ وہ تقریباً 6 سال سے جیل میں بند ہے۔ 16 ستمبر2020 کوایک چارج شیٹ فائل کی گئی، لیکن سپلیمنٹری چارج شیٹ مسلسل فائل کی جا رہی ہیں۔ اب تک 4 سپلیمنٹری اورایک مین چارج شیٹ فائل ہوچکی ہے۔ ٹرائل ختم ہونے کے کوئی آثارنہیں نظرآرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بغیرسزا کے لمبے وقت تک کسی کوجیل میں رکھنا، ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم کا مذاق ہے، یہ پری-ٹرائل سزا ہے۔
ابھیشیک منوسنگھوی نے کہا کہ نتاشا نروال اوردیوانگنا کلیتا پربھی بہت سنگین الزام تھے اورانہیں ایک سال میں ہی ضمانت مل گئی۔ یہ لوگ سازش کرنے والے واٹس اپ گروپ (دہلی پروٹیسٹ سپورٹ گروپ-ڈی پی ایس جی) کا حصہ تھے جبکہ گلفشاں اس کا حصہ نہیں تھی۔ انہوں نے خواتین مظاہرین کوفنڈنگ کی، لیکن گلفشاں نے نہیں کی۔ گلفشاں کا ذکرایڈیشنل سالسٹرجنرل راجو کی دلیلوں میں صرف دوبارکیا گیا ہے۔ جہاں تک دوسری خفیہ میٹنگ کی بات ہے، اس میں دیوانگنا اورنتاشا بھی موجود تھیں اورگلفشاں سے زیادہ اہم رول میں تھیں اورانہیں ضمانت مل گئی۔ اب ایک 32 سال کی خاتون پریواے پی اے لگایا جا رہا ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



