Bharat Express DD Free Dish

Umar Khalid

دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گرفتار سماجی کارکن عمر خالد کو ایک بار پھر عدالت سے کوئی راحت نہیں مل سکی۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے ان کی جانب سے دائر نظرثانی عرضی کو خارج کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی جیل میں قیام بدستور جاری رہے گا۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ دیر رات مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور قابلِ اعتراض نعرے لگانے کے معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کیمپس کو کسی بھی صورت نفرت کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث طلبہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

کانگریس لیڈر راکیش سنہا نے واضح کیا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر لیے گئے تمام فیصلے سب کے لیے قابلِ قبول ہونے چاہئیں۔ جمہوریت کی مضبوطی عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری سے ہی ممکن ہے، اور عدالتی احکامات کا احترام کرنا ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت کا فرض ہے۔

سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات سے جڑے مبینہ سازش کے معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی ہیں، جبکہ اسی کیس میں نامزد پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دے دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انصاف نہیں بلکہ سیاسی دکھاوا ہے اور بھارت کی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی عدالتی کارروائی اور خود مختاری کا احترام ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب زہران ممدانی نے عمر خالد کے لیے آواز اٹھائی ہو۔ جون 2023 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ دورے سے قبل نیویارک میں منعقد ایک پروگرام کے دوران ممدانی نے عمر خالد کی جیل سے لکھی تحریروں کے اقتباسات بھی پڑھ کر سنائے تھے۔

دہلی فساد معاملے میں ملزم عمرخالد کو بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے انہیں بہن کی شادی میں شامل ہونے کے لئے 16 سے 29 دسمبرتک عبوری ضمانت دی ہے۔ اس دوران عمرخالد سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرپائیں گے۔ وہ صرف فیملی اور رشتہ داروں سے ملاقات کر سکیں گے۔

سپریم کورٹ میں ضمانت کی سماعت کے دوران جسٹس اروند کمارنے پوچھا کہ "بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے" کا بیان کس نے دیا تھا۔ اس پرعمر خالد کے وکیل کپل سبل نے جواب دیا کہ یہ عمرخالد نہیں بلکہ کوئی اورطالب علم رہا ہوگا۔

شرجیل امام، عمرخالد، گلفشاں فاطمہ اور شفاءالرحمٰن پر دہلی فسادات کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ہونے کے لئے دہشت گردی مخالف قانون یواے پی اے اور آئی پی سی کے التزامات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ان فسادات میں 53 لوگ مارے گئے تھے اور700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

یہ مقدمہ 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے جڑا ہے جو شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور قومی رجسٹر برائے شہری (NRC) کے خلاف احتجاج کے دوران پھوٹ پڑے تھے۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ شرجیل امام کو پولیس نے یو اے پی اے کے تحت گرفتار کر کے اس معاملے میں ’’مرکزی سازش کار‘‘ قرار دیا تھا۔