Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court on Umar Khalid-Sharjeel Imam Bail: سپریم کورٹ نے خود کے فیصلے پراٹھایا سوال، سخت تبصرہ کے بعد عمرخالد اورشرجیل امام کی ضمانت منظورہونے کا راستہ ہموار!

بینچ نے نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے 2021 میں کہا تھا کہ اگر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے توعدالتیں یواے پی اے کے معاملات میں ضمانت دے سکتی ہیں۔ تاہم عدالت نے عمر خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے وقت اس فیصلے کو مدنظرنہیں رکھا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر(18 مئی) کودہلی فسادات کی سازش کیس میں جے این یو کے سابق طالب علم عمرخالد کوضمانت دینے سے انکارکرنے والے اپنے ہی سابقہ ​​فیصلے پرسوال اٹھایا۔ عدالت نے کہا کہ یواے پی اے کے معاملات میں بھی ضمانت کا معمول ہونا چاہئے، جبکہ قید کی سزا مستثنیٰ ہونی چاہئے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے یہ تبصرہ ملزم سید افتخاراندرابی کی ضمانت منظورکرتے ہوئے کیا ہے، جوکہ منشیات کی دہشت گردی کے ایک مقدمے میں طویل عرصے سے جیل میں ہیں۔

سپریم کورٹ نے سید اندرابی کوضمانت دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت یواے پی اے کے معاملات میں بھی عام ہونا چاہئے۔ عدالت نے دہلی فسادات کیس میں طلبا وسماجی کارکن عمرخالد کو ضمانت دینے سے انکارکرنے والے اپنے ہی سابقہ ​​فیصلے پربھی شدید اعتراض ظاہرکیا۔ اس کے علاوہ، عدالت نے گلفشاں فاطمہ بنام ریاست کے فیصلے پربرہمی کا اظہارکیا۔

عمرخالد کے معاملے میں عدالت نے توجہ نہیں دی: سپریم کورٹ

یہ فیصلہ دہلی فسادات کے ملزمین کی ضمانت سے متعلق ہے۔ جبکہ متعدد ملزمان کی ضمانتیں ہوچکی ہیں۔ عمرخالد اورشرجیل امام کو ابھی تک ضمانت نہیں دی گئی ہے۔ جسٹس بی وی ناگ رتنا اوراجول بھوئیاں کی بینچ نے کے اے نجیب کیس میں سپریم کورٹ کے پہلے فیصلے کا حوالہ دیا۔ بینچ نے نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے 2021 میں کہا تھا کہ جب بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے توعدالتیں یواے پی اے کے معاملات میں ضمانت دے سکتی ہیں۔ تاہم عدالت نے عمرخالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس فیصلے کونظراندازکردیا۔ بینچ نے کہا کہ جب کوئی بڑی بینچ فیصلہ سنا دیتی ہے تو چھوٹی بینچ کو اسے ماننا ہی پڑے گا۔ آج کل ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ چھوٹی بینچ سیدھے سیدھے منع تو نہیں کرتیں، لیکن گھما پھرا کربڑے فیصلے کے اثرکوکمزورکردیتی ہیں۔

فیصلے پرعدالت کا دوبارہ غور کرنے سے بھی انکار

واضح رہے کہ اسی سال 4 جنوری کوجسٹس اروند کماراورجسٹس این وی انجاریا کی بینچ نے عمرخالد اورشرجیل امام کی ضمانت عرضیاں مسترد کردی تھیں۔ ساتھ ہی عدالت نے اس فیصلے پرنظرثانی کرنے سے بھی انکارکردیا تھا کہ دونوں ملزمین دہلی فسادات کیس میں ایک سال تک ضمانت کی درخواستیں داخل نہیں کرسکتے ہیں۔ اس طرح سپریم کورٹ نے انہیں ایک سال کے لئے اپیل دائرکرنے سے بھی روک دیا تھا۔ دراصل، عمرخالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمان، محمد سلیم خان اورشاداب احمد دہلی فسادات کے الزام میں 5 سال 3 ماہ سے تہاڑجیل میں بند ہیں۔ انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کوچیلنج دیا تھا، جس میں 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق معاملے میں انہیں غیرقانونی سرگرمیوں (روک تھام) ایکٹ (یواے پی اے) کے تحت ضمانت دینے سے انکارکیا گیا تھا۔

تین ججوں کی بینچ کا فیصلہ نہیں مانا گیا: سپریم کورٹ

موجودہ معاملے میں جسٹس بی وی ناگرتنا اورجسٹس اجول بھوئیاں کی بینچ نے سید اندرابی کی اپیل پرفیصلہ دیتے ہوئے عمرخالد اورشرجیل امام کوضمانت نہیں دینے کے فیصلے پرسوال اٹھایا۔ سید اندرابی جون 2020 سے جیل میں ہیں، قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ذریعہ درج کردہ منشیات دہشت گردی کے مقدمے میں جون 2020 سے کیس کی سماعت کا انتظار کررہے ہیں۔ اپنے تبصروں میں، سپریم کورٹ نے گلفشاں فاطمہ کے فیصلے پراعتراض کیا (جس میں عمرخالد اورشرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردی گئی تھیں)، یہ کہتے ہوئے کہ اس نے کے اے نجیب کیس میں تین ججوں کے بینچ کے فیصلے کی صحیح طریقے سے پیروی نہیں کی، جس نے ٹرائل میں طویل تاخیرکو ضمانت کی بنیاد مانا گیا تھا۔

 بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read