کانگریس کے جھارکھنڈ میڈیا انچارج راکیش سنہا۔
رانچی: دہلی فسادات سے متعلق مقدمات میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں سپریم کورٹ کی جانب سے مسترد کیے جانے اور آئی پی ایل سے جڑے ایک اہم فیصلے پر کانگریس کا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کے جھارکھنڈ میڈیا انچارج راکیش سنہا نے دونوں معاملات پر بیان دیتے ہوئے پارٹی کا مؤقف واضح کیا۔
عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں خارج ہونے پر راکیش سنہا نے آئی اے این ایس سے گفتگو میں کہا کہ عدلیہ آزاد ہے اور اپنے آئینی فرائض انجام دیتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس ملک میں عدلیہ موجود ہے اور فطری طور پر وہ اپنا کام کرتی ہے۔ ہمیں عدالت پر مکمل احترام اور بھروسہ ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جو جیسا کرے گا، ویسا بھرے گا۔‘‘
عدالتی حکم کا احترام کرنا ہر شہری کا فرض: راکیش
کانگریس لیڈر نے واضح کیا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر لیے گئے تمام فیصلے سب کے لیے قابلِ قبول ہونے چاہئیں۔ جمہوریت کی مضبوطی عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری سے ہی ممکن ہے، اور عدالتی احکامات کا احترام کرنا ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت کا فرض ہے۔
مستفیض الرحمان کو ٹیم سے ہٹانے کی ہدایت پر سوال
اس کے ساتھ ہی راکیش سنہا نے بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے آئی پی ایل فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کو بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمان کو ٹیم سے ہٹانے کی ہدایت پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کافی تاخیر سے لیا گیا معلوم ہوتا ہے۔
BCCI نے اس معاملے پر سنجیدگی سے نہیں کیا غور
راکیش سنہا نے کہا، ’’ایسا لگتا ہے کہ نہ تو آئی سی سی اور نہ ہی بی سی سی آئی نے پہلے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا۔ جب پاکستانی کھلاڑیوں کو نیلامی سے باہر رکھا گیا تھا تو اسی وقت بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو کیوں نہیں روکا گیا؟ اس وقت یہ فیصلہ کیوں نہیں لیا گیا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی طرح بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو بھی نیلامی میں شامل نہ کیا جائے؟‘‘
پہلے سے واضح پالیسی کیوں نہیں بنائی گئی؟ راکیش
انہوں نے مزید کہا کہ یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اس وقت بی سی سی آئی اور آئی سی سی کیا کر رہے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فیصلے اور حکمتِ عملیاں تب سامنے آتی ہیں جب سب کچھ ہو چکا ہوتا ہے۔ پہلے سے واضح پالیسی کیوں نہیں بنائی گئی؟
کھیل میں شفافیت اور بروقت فیصلے لینا نہایت ضروری
کانگریس لیڈر نے کہا کہ کھیل جیسے اہم شعبے میں شفافیت اور بروقت فیصلے نہایت ضروری ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے معاملات کے لیے پہلے ہی واضح رہنما خطوط طے کیے جائیں تاکہ کھلاڑیوں، فرنچائزیز اور شائقین کے درمیان کسی قسم کی الجھن پیدا نہ ہو۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


