Bharat Express DD Free Dish

Taj Mahal

تاج محل مغلیہ فنِ تعمیر کی بہترین مثال سمجھی جاتی ہے، جس میں فارسی، ہندوستانی اور اسلامی طرزِ تعمیر کے حسین امتزاج کو پیش کیا گیا ہے۔ سال 1983 میں اسے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا، جہاں اسے ’’بھارت میں مسلم فن کا نگینہ‘‘ اور عالمی ورثے کے عظیم شاہکاروں میں شمار کیا گیا۔

تاج محل کی پارکنگ کے قریب گولی چلائی گئی ہے۔ گولی کی آواز سن کر سیاحوں میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔ کار میں سوار دو لڑکوں پر گولی چلانے کا الزام ہے۔ گولی چلنے کے بعد دونوں لڑکے فرار ہو گئے۔ وہ ایک کار کے ساتھ تاج محل کے 500 میٹر کے اندر زبردستی داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

یوگا کے عالمی دن کو صحت، روحانیت اور ثقافت کے ملاپ کے طور پر مناتے ہوئے اے ایس آئی کے اس تاریخی اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔

منی کنٹرول کی ایک رپورٹ کے مطابق، اتر پردیش نے سیاحت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں، جس نے جنوری اور ستمبر 2024 کے درمیان قابل ذکر 476.1 ملین سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

اے سی پی تاج سیکورٹی سید اریب احمد نے کہا کہ ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کو دھمکی بھرا ای میل بھیجا گیا ہے جس کے بعد سیکورٹی میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس پورے معاملے میں تاج گنج پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے اور آگے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

تاج محل میں پودا نکلنے کے معاملے میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ تاج محل کا احاطہ بندروں کے لئے پناہ گاہ بن گیا ہے۔ تاج محل احاطے میں پانی بھرنے کی بھی پریشانی ہے۔

راج کمار پٹیل کا کہنا ہے کہ ’مرکزی مقبرے کے اندر نمی دیکھی گئی ہے۔ گنبد میں لگے پتھروں میں شاید ایک باریک دراڑ ہو جس کی وجہ سے پانی رس رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جس جگہ پانی کے قطرے گر رہے ہیں اس کا معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پانی مسلسل ٹپک رہا یا وقفے وقفے سے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ آگرہ کو ہیریٹیج سائٹ قرار دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کی تاریخ 1000 سال سے زیادہ کی ہے اور بہت سی تاریخی یادگاروں کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ آگرہ کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دینے کی عرضی کو درست ثابت کرنے کے لیے وقت مانگا گیا، لیکن سپریم کورٹ نے درخواست مسترد کر دی۔

عرضی ایم سی مہتا بمقابلہ یونین آف انڈیا کیس میں دائر کی گئی تھی، جو 1984 سے زیر التوا رٹ پٹیشن ہے، جس میں عدالت وقتاً فوقتاً ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے لیے مختلف ہدایات جاری کرتی رہی ہے۔

چنئی کے تاجرامرالدین شیخ داود صاحب اپنی ماں سے اتنا پیار کرتے تھے کہ انہوں نے ماں کی یاد میں تاج محل کی طرح نظرآنے والی شاندار عمارت بنوا دی۔ اسے بنوانے میں تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ روپئے کا خرچ آیا۔