Bharat Express DD Free Dish

Sweden Holly Quran

بیان میں کہا گیا ہے کہ نجیم کو چار مختلف مواقع پر مسلمانوں کے عقائد کے خلاف توہین کے اظہار کے تحت نفرت انگیز جرائم کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔دوسری جانب وکیل کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق استعمال کریں گے۔

سلوان مومیکا اورایک شریک مدعا علیہ پر اسٹاک ہوم کی عدالت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے قرآن پاک جلانے کے حوالے سے بیانات کے ذریعے نسلی منافرت پر اکسایا تھا، سویڈش میڈیا کے مطابق جس وقت سلوان مومیکا کو قتل کیا گیا وہ ٹک ٹاک پر لائیو سٹریمنگ کر رہا تھا۔

سلوان مومیکا اورایک شریک مدعا علیہ پر اسٹاک ہوم کی عدالت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے قرآن پاک جلانے کے حوالے سے بیانات کے ذریعے نسلی منافرت پر اکسایا تھا، آج جمعرات اس کیس کا فیصلہ سنایا جانا تھا۔

سویڈش پراسیکیوٹرز نے عراقی نژاد مسیحی کارکن سلوان مومیکا اور ان کے ساتھی سلوان نجم پر 2023 میں چار مواقع پر ’ایک نسلی گروہ کے خلاف تحریک چلانے‘ کا الزام عائد کیاہے۔

سویڈن کے مالمو شہر میں مقدس قرآن شریف نذرآتش کرنے جیسے گھناؤنے عمل کی اجازت دی گئی ہے، جس کے بعد شہر میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں قرآن کی بے حرمتی کرکے شہرت حاصل کرنے والا 37 سالہ ملعون سلوان مومیکا حال ہی میں سویڈن سے ناروے منتقل ہوا تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر 27 مارچ کو پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ملعون نے صارفین کو آگاہ کیا تھا کہ وہ ناروے حکام کی حفاظت میں سویڈن سے ناروے منتقل ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ سویڈن کی سکیورٹی سروس نے جولائی کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ سٹاک ہوم میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے حالیہ واقعات نے ملک کی سلامتی پر منفی اثر ڈالا ہے۔ سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے یہ بھی کہا کہ ملک کو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اپنے سب سے سنگین سیکورٹی مسئلے کا سامنا ہے۔

سوئیڈن کی حکومت پبلک آرڈرایکٹ میں ترمیم کے بارے میں غوروخوض کر رہی ہے، جس کے ذریعہ پولیس کو اس بات کا اختیار ہوگا کہ وہ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کی اجازت نہ دے۔

مسلم نوجوانوں کی اچھی تعداد اس جگہ پر سجدہ شکر بجالاتی نظر آرہی ہے جہاں کچھ دنوں پہلے شرپسندوں نے  کلام مقدس کی بے حرمتی کی تھی۔ویڈیو میں جو نوجوان مائیک کے ذریعے اعلان کرتا نظرآرہا ہے اس کے مطابق سویڈن میں مسلم نوجوانوں نے اس جگہ مسجد بنانے کے لیے رقم جمع کی جہاں مقدس کتاب کو جلایا گیا تھا۔

قرآن پاک کے نسخے کو جلانے کے متعدد واقعات  پیش آنے  کے بعد سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن  کا بیان سامنے آیا ،اور یہ بیان بھی مسلم ممالک کے احتجاج اور دھکمی کے بعد آیا جس میں انہوں نے قرآن جلانے والوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا  کہ جو لوگ اسلام کی مقدس کتاب کی توہین کرتے ہیں وہ سویڈن کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔