Bharat Express DD Free Dish

sports news

جیسے ہی وراٹ کوہلی نے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پر کھیلے جا رہے تیسرے ون ڈے میں ایک رن لیا، پورا اسٹیڈیم شور سے گونج اٹھا۔ کوہلی نے بھی اپنے پہلے رن کا جشن منایا۔

ٹیسٹ سیریز کے بعد پاکستان 28 اکتوبر سے 1 نومبر کے درمیان تین ٹی20 میچوں کی سیریز کھیلے گا، جس کے بعد 4 سے 8 نومبر کے دوران دونوں ٹیموں کے درمیان تین ون ڈے میچوں کی سیریز ہوگی، جس میں پاکستان اپنی ٹیم کے نئے کپتان کے ساتھ میدان میں اترے گا۔

آئی سی سی نے سری لنکا کے 11 کھلاڑیوں کو سخت سزا سنائی ہے۔ ان کھلاڑیوں کوآئی سی سی کی ضابطہ اخلاق کے کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.22 کے تحت قصوروارپایا گیا ہے۔

2015 میں اپنا ون ڈے ڈیبیو کرنے والے بابر اعظم نے 131 ون ڈے میچوں کی 128 اننگز میں 19 سنچریاں اور 37 نصف سنچریاں بنا کر 6,235 رنز بنائے ہیں۔ وہ سعید انور کے بعد پاکستان کے لیے سب سے زیادہ ون ڈے رنز بنانے والے بلے باز بھی ہیں۔

حسین جہاں نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر اس ویڈیو کے ساتھ بہت سی باتیں بھی لکھی ہیں۔ حسین جہاں نے محمد شامی کے لیے لکھا کہ 'میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں جانو'۔

25 سالہ گل انگلینڈ میں لگاتار ٹیسٹ میں سنچریاں بنانے والے دوسرے ہندوستانی کپتان ہیں۔ ان سے پہلے محمد اظہر الدین یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ گل زبردست فارم میں ہیں۔ انہوں نے لیڈز میں سیریز کے پہلے میچ میں 147 رنز بنائے ہیں۔ فی الحال، گل سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے صرف تین اننگز میں 250 سے زیادہ رنز بنائے۔

کیا کوئی کرکٹراپنی موت کے بعد ڈیبیوکرسکتا ہے؟ نہیں نا۔ لیکن یہ ہوا ہے. یہ انگلینڈ کے ایک کرکٹرکی حیران کن کہانی ہے، جس نے اپنے کیریئرمیں صرف 1 میچ کھیلا، لیکن اس واحد میچ نے ان کا نام امرکردیا۔

روہت اور کوہلی دونوں نے مئی میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہندوستان کو اوپننگ کرنے اور چوتھے نمبر پر بلے بازی کے لیے موزوں بلے باز کی تلاش ہے۔ 36 سالہ کوہلی نے 123 ٹیسٹ میں 9,230 رنز بنائے۔ وہ ہندوستان کے ٹیسٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں۔

ہندوستان کے 19 سالہ شطرنج اسٹار گوکیش ڈوما راجو، جو کہ عالمی چیمپئن بھی ہیں، انہو ں نے اپنے کیریئر میں پہلی بار کلاسیکل فارمیٹ میں میگنس کارلسن کو شکست دی۔

اس سے قبل ان کا بہترین تھرو 89.94 میٹر تھا، جو انہوں نے 30 جون 2022 کو اسٹاک ہوم ڈائمنڈ لیگ میں تھرو تھا۔ اس بہترین تھرو کے باوجود نیرج چوپڑا کو دوسرے مقام پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔