Bharat Express DD Free Dish

Shaikh Haseena

بنگلہ دیش میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) 17 نومبر کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں اپنا فیصلہ سنائے گا۔ ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بنگلہ دیش ہائی الرٹ پر ہے، فوج اور پولیس کی تعیناتی اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد، قانونی کارروائیوں، اور ایکریڈیٹیشن کی منسوخی جیسے اقدامات نے بنگلہ دیش میں پریس کی آزادی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف صحافیوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ ملک میں جمہوری اقدار اور آزادی صحافت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔

فیس بک لائیو کے ذریعے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہاکہ میں بنگلہ دیش کے لوگوں سے انصاف چاہتی ہوں۔ کیا میں نے اپنے ملک کے لیے کچھ نہیں کیا؟ پھر اتنی توہین کیوں؟ میری بہن اور میں جو واحد یاد سے جڑے ہوئے ہیں وہ مٹ جانے کی ہے۔

خالدہ ضیاء کی پارٹی نے عدالت کے فیصلے کا استقبال کیا جبکہ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ نے اس فیصلے پرمایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے لوگ ہی حملوں کے لئے ذمہ دارلوگوں پرمقدمہ چلائیں گے۔

بنگلہ دیش میں سنت چنمے کرشن داس کی گرفتاری سے متعلق تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے بڑھتے ہوئے تشدد اور حقوق انسانی کی خلاف ورزی سے متعلق بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ میں اقتدار حاصل کرنے والے لوگ ہر علاقے میں ناکام ہورہے ہیں۔

ڈھاکہ ٹریبیون نے جمعرات کو خارجہ امور کے مشیر محمد توحید حسین کے حوالے سے کہا کہ عبوری حکومت ضروری اقدامات کرے گی اور حسینہ کو واپس لانے کی کوشش کرے گی۔

بنگلہ دیشی کھلاڑی پر قتل کا مقدمہ ڈھاکا کے ایڈابار کے پولیس اسٹیشن میں رفیق السلام نامی شخص کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔مقدمے کے متن کے مطابق متوفی روبیل کو 5 اگست کو ایڈابار میں رنگ روڈ کے احتجاجی مارچ میں شرکت کے دوران گولیاں لگی تھیں ۔

ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس۔ جے شنکر نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ شیخ حسینہ ہندوستان میں ہیں اور انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ لیکن، حسینہ کا ہندوستان میں طویل مدت تک قیام حکومت کے لیے سفارتی مسائل پیدا کر رہا ہے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ برطانیہ میں ان کی سیاسی پناہ کی باقاعدہ درخواست پرکارروائی کی جا رہی ہے تاہم برطانیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے بھی شیخ حسینہ کے لیے اپنے دروازے بند کردیئے ہیں اور امریکہ نے شیخ حسینہ کا ویزا منسوخ کردیا ہے۔

شیخ حسینہ کی پیدائش 1947 میں ہوئی تھی۔ وہ شیخ مجیب الرحمٰن کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔ وہ کبھی سرگرم سیاست میں نہیں آتیں، اگر 1975 میں ان کے والد کا قتل نہ کیا گیا ہوتا۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ جرمنی شفٹ ہوچکی تھیں، مگر 49 سال پہلے بنگلہ دیش میں جو ہوا، اس نے انہیں بنگلہ دیش کی سیاست میں سب سے مضبوط خاتون بننے کے لئے مجبورکردیا۔