Bharat Express

RLD

لوک سبھا الیکشن سے پہلے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اترپردیش کے بجنور سے رکن پارلیمنٹ ملوک ناگر نے بی ایس پی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں 18 سال سے اس پارٹی میں ہوں، لیکن اب میں ملک اور عوام کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔

سابق آر ایل ڈی لیڈر نے ایک اور پوسٹ میں لکھا، 'میں نے اپنا استعفیٰ راشٹریہ لوک دل کے صدر جینت چودھری کو بھیج دیا ہے۔ میں خاموشی سے ملک کے جمہوری ڈھانچے کو ختم ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ میں جینت سنگھ جی اور آر ایل ڈی میں اپنے ساتھیوں کا شکر گزار ہوں۔

باغپت کو آر ایل ڈی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ باغپت ضلع میں 3 اسمبلی سیٹیں ہیں۔ سال 2012 میں بی ایس پی نے 2 اور آر ایل ڈی نے 1 سیٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ جبکہ 2017 میں بی جے پی نے 2 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی

جیسے ہی آر ایل ڈی سپریمو جینت چودھری نے بی جے پی کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا، ان کا ووٹ بینک بھی متاثر ہوا۔ ایسے میں بڑے مسلم لیڈروں کا آر ایل ڈی کی طرف آنا جینت کے تناؤ کو کچھ کم کر سکتا ہے۔

۔ اس دوران ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے جینت چودھری کے 'چونی' بیان پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ جینت چودھری سے دوبارہ ملیں گے تو پوچھیں گے کہ وہ کیوں چلے گئے تھے۔

جینت چودھری نے اپنے ایم ایل ایز میں عدم اطمینان کی خبروں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے اپنی دہلی کی رہائش گاہ پر تمام نو ایم ایل ایز کی تصویریں جاری کیں۔

بی جے پی نے ابھی تک آر ایل ڈی کے این ڈی اے میں شامل ہونے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اس کی کئی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔

راشٹریہ لوک دل کے سربراہ جینت چودھری نے کہا کہ میں نے اپنے تمام اراکین اسمبلی سے بات کرلی ہے۔ ہمیں کم وقت میں فیصلہ لینا پڑا۔ حالات ایسے تھے کہ این ڈی اے کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔

راشٹریہ لوک دل کے این ڈی اے الائنس کے ساتھ آنے کے فیصلے پرکچھ راکین اسمبلی کے ناراض ہونے کی قیاس آرائی کی جا رہی تھی۔ جینت چودھری کی پارٹی کی طرف سے اب اس کی تردید کی گئی ہے۔

جینت چودھری سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بی جے پی کے ساتھ جائیں گے؟ اس پر اس نے کہا کہ میں کس منہ سے انکار کروں۔ انھوں نے کہا، 'یہ میرے لیے ایک جذباتی اور یادگار لمحہ ہے۔