Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

بی جے پی لیڈرامت مالویہ نے کانگریس کے سابق صدرراہل گاندھی پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ 'میرجعفر' کی طرح ہیں۔

کانگریس نے آپریشن سندورسے متعلق مرکزی حکومت کو گھیرا ہے۔ راہل گاندھی نے مودی حکومت سے پاکستان کے خلاف کارروائی پر سوال کیا ہے۔

کانگریس لیڈر راہل نے مزید سوال کیا کہ ’’اس کی اجازت کس نے دی؟ اس کے نتیجے میں ہماری فضائیہ نے کتنے طیارے کھوئے؟‘‘

وہیں، کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا نے ایکس پوسٹ میں لکھا، ’’دربھنگہ کے امبیڈکر ہاسٹل میں ’شکشا نیائے سمواد‘ پروگرام کے تحت طلبہ سے بات چیت کرنے جا رہے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو روکنا ایک انتہائی شرمناک، قابل مذمت اور بزدلانہ فعل ہے۔ جے ڈی یو-بی جے پی مخلوط حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ کیا بہار میں قائد حزب اختلاف کا جانا جرم ہے یا دلتوں، پسماندہ، محروموں اور غریبوں کی آواز اٹھانا جرم ہے؟ انصاف اور انقلاب کی سرزمین بہار کے لوگ یہ تاناشاہی برداشت نہیں کریں گے۔‘‘

الہ آباد ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی شہریت تنازعہ سے متعلق عرضی خارج کردی گئی ہے۔ عدالت نے عرضی گزارکو نظر ثانی کی اپیل کرنے کی اجازت دی ہے۔

آپریشن سندور کے بعد بھارتی فوج نے پاکستان کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا۔ اس پر سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے مودی حکومت کی تعریف کی ہے۔ کانگریس کے سابق لیڈر آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن راہل گاندھی کو یہ بات اچھی نہیں لگی ہوگی۔ حالانکہ تعریف تو راہل گاندھی کو بھی کرنی چاہئے تھی۔

کانگریس لیڈرراہل گاندھی امریکہ کے ہندوستان-پاکستان موضوع میں مداخلت اورسیزفائرپرحکومت کے رخ کی مخالفت کررہے ہیں۔ انہوں نے وجے چوک پراحتجاج کی اجازت مانگی ہے، لیکن دہلی پولیس سے ابھی تک اجازت نہیں ملی ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس اور آل پارٹی میٹنگ بلانے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج ہم کوئی تنقید نہیں کریں گے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ جب تک حکومت انہیں یہ یقین دلاتی کہ پی ایم بھی اجلاس میں شرکت کریں گے تب تک وہ اجلاس میں شریک نہ ہوں۔

آج آپریشن سندورپر  کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے دہشت گردی کے خلاف اس سخت حملے کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، "پاکستان اور پی او کے سے ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی پالیسی مضبوط اور واضح ہے۔

راہل گاندھی کے بھگوان رام کو ایک افسانوی کردار بتانے پر آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا، " بھگوان رام کو بھگوان  وہی انسان مانتا ہے جس کی  آستھا بھگوان میں ہے،  جس انسان کی  بھگوان رام میں آستھا نہیں ہے،وہ بھگوان رام اور رام مندر پر سوال اٹھائے گا۔