Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

خط مںک کہا گاا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں سے جموں و کشمر کے لوگ مسلسل مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مطالبہ نہ صرف جائز ہے بلکہ ان کے آئی ر اور جمہوری حقوق پر بھی مبنی ہے۔ راہل گاندھی اور کھڑگے نے وزیر اعظم کے پہلے بیانات کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس کرنے کا یقین دلایا تھا۔

بالاسور واقعہ کے بعد اڈیشہ میں کانگریس سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ اڈیشہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بھگت چرن داس کی قیادت میں بالاسور میں ایک کینڈل مارچ نکالا گیا۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس واقعے کے خلاف 17 جولائی کو ’ریاستی گیر بند‘ کی کال دی ہے۔

عدالت کی طرف سے طلب کیے جانے کے بعد راہل گاندھی ذاتی طور پر منگل کے روز لکھنؤ کی عدالت میں پیش ہوئے اور رسمی طور پر خودسپردگی کی۔ اس کے بعد ان کے وکیل نے عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ ضمانت کی شرائط کے مطابق، عدالت نے راہل گاندھی کو 20 ہزار روپے کی دو ضمانتیں جمع کرانے کا حکم دیا، جس کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔

قبل کانگریس کے ریاستی صدر بھکت چرن داس نے کہا کہ کانگریس طالبہ کو انصاف دلانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ وہیں، کانگریس ایم ایل اے صوفیہ فردوس نے بھی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔

راہل گاندھی نے کہا، "ہر بار کی طرح، بی جے پی کا سسٹم ملزموں کو تحفظ فراہم کرتا رہا - اور ایک معصوم بیٹی کو خود کو آگ لگانے پر مجبور کیا، یہ خودکشی نہیں ہے، بلکہ سسٹم کا منظم قتل ہے۔ مودی جی، اڈیشہ ہو یا منی پور - ملک کی بیٹیاں جل رہی ہیں،

اتر پردیش میں سامنے آنے والے تبدیلی مذہب کے معاملات پر انھوں نے کہا کہ تبدیلی مذہب ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس پر سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔

راہل گاندھی نے کہاکہ  'اڈیشہ بی جے پی کا ماڈل ہے۔ یہ لوگ آپ کا سارا پیسہ 5-6 بڑی کمپنیوں کو دے رہے ہیں۔ میں نے ابھی کسانوں اور خواتین کے وفد سے ملاقات کی، ان کی آواز سنی، ان کا درد سنا۔ پانی، جنگل اور زمین قبائلیوں کی ہے اور قبائلیوں کے پاس رہے گی۔

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کے اہلکار بی جے پی اور آر ایس ایس کے ایجنٹوں کی طرح بات کر رہے ہیں۔ وہ اپنی ذمہ داری بھول چکے ہیں۔ ان کا کام آئین کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ نہ بھولیں کہ قانون آپ پر بھی نافذ ہوگا۔ قانون آپ کو نہیں چھوڑے گا۔ آپ کا کام ہندوستان کے آئین کی حفاظت کرنا ہے۔

تیجسوی یادو نے سوال اٹھایا کہ یہ عمل الیکشن سے صرف دو مہینے قبل کیوں کیا جا رہا ہے، اور الزام لگایا کہ ایسی دستاویزات مانگی جا رہی ہیں جن تک غریب لوگ رسائی نہیں رکھتے۔ انہوں نے مہاگٹھ بندھن کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اس غیر منصفانہ عمل کے خلاف متحد ہو کر لڑیں۔

اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ یہ نظرثانی عمل خاص طور پر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے ووٹنگ حقوق کو محدود کرنے کی کوشش ہے، جبکہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن اسے شفافیت کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔