Bharat Express DD Free Dish

President Putin

بھارت کی اس حمایت کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں امریکہ نے بھارت کی جانب سے روس سے تیل کی خریداری پر تنقید کی اور بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی محصولات عائد کیے۔

پوتن کا دورہ بھارت ایک ایسے وقت میں ہو گا جب امریکہ نے روسی تیل کی خریداری  نہ روکنے پر بھارت پر پچاس فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ اجیت ڈوول کے دورہ روس سے پہلے، ماسکو نے اپنے تجارتی شراکت داروں کے انتخاب کے ہندوستان کے حق کی حمایت کرتے ہوئے ٹرمپ کو نشانہ بنایا تھا۔

امریکی صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ ان کی ترجیح روس اور یوکرین کی جنگ کو روکنا ہے۔ لیکن مارچ سے روس نے یوکرین پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ ٹرمپ نے ان حملوں کو پوتن کی دوغلی پالیسی سے جوڑ دیا، جہاں وہ دن میں امن کی بات کرتے ہیں لیکن رات کو حملے کرتے ہیں۔

سٹارووئٹ کے ممکنہ جانشین کے طور پر نائب وزیر ٹرانسپورٹ اینڈری نیکیٹن کا نام زیر گردش ہے، جو اس سے قبل نووگوروڈ اوبلاست کے گورنر رہ چکے ہیں۔ سٹارووئٹ کی برطرفی روس کی اندرونی سیاست اور جاری روس-یوکرین تنازع کے پس منظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ایپ سرکاری کنٹرول کے تحت ہونے کی وجہ سے صارفین کے ڈیٹا کی رازداری کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ روس کا غیر ملکی میسجنگ پلیٹ فارمز کو محدود کرنے یا ان کی رفتار کم کرنے کا ممکنہ منصوبہ بھی تشویش کا باعث ہے۔

روس کی ترجمان نے زور دیا کہ ایران کے جوہری تنازع کا حل سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس ہمیشہ سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات کے سیاسی اور سفارتی حل کی وکالت کرتا رہا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعرات کو اعلان کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے دورۂ ہندوستان کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت قبول کر لی ہے اور اس دورے کی تیاریاں جاری ہیں۔

کیف میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا تھاکہ اگر میرے ایسا کرنے سے یوکرین میں امن قائم ہوتا ہے، اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ میں اپنا عہدہ چھوڑ دوں، تو میں اس کے لیے تیار ہوں۔

امریکی صدر نے کہا کہ اگر جنگ چھڑنے کے وقت وہ اقتدار میں ہوتے تو وہ ایک سمجھوتے تک پہنچ سکتے تھے۔ یہ سمجھوتا یوکرین کو "تقریبا تمام اراضی پیش کر دیتا ، کسی ہلاکت یا کسی شہر کے تباہ ہوئے بغیر ... میں امن چاہتا ہوں ، میں مزید ہلاکتیں نہیں چاہتا"۔

خبر یہ بھی ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے سعودی عرب میں ملاقات کریں گے۔عرب نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ملاقات کے حوالے سے یہ اعلان روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ٹیلی فون پر 90 منٹ کی گفتگو کے بعد کیا۔