روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک قانون پر دستخط کیا ہے جس کے تحت ایک سرکاری حمایت یافتہ میسجنگ ایپ کی تیاری کی اجازت دی گئی ہے، جو سرکاری خدمات سے منسلک ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد روس کی واٹس ایپ اور ٹیلی گرام جیسے غیر ملکی پلیٹ فارمز پر انحصار کو کم کرنا اور “ڈیجیٹل خود مختاری” کو فروغ دینا ہے۔ ایکسپریس کے مطابق، یہ ایپ روس کی سرکاری کمپنی وی کےکی جانب سے تیار کی جا سکتی ہے، جو پہلے ہی VKontakte نامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم چلاتی ہے، جسے روزانہ تقریباً 80 ملین روسی استعمال کرتے ہیں۔ یہ قانون روس کے فروری 2022ء میں یوکرین پر حملے کے بعد مغربی ٹیک کمپنیوں کے روسی مارکیٹ سے نکلنے کے تناظر میں تیزی سے سامنے آیا، جس نے مقامی متبادلات کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
روس کے قانون سازوں کا دعویٰ ہے کہ یہ نئی ایپ واٹس ایپ اور ٹیلی گرام سے زیادہ فعالیت پیش کرے گی، جیسے کہ میسجنگ، کالز، اور سرکاری خدمات جیسے کہ دستاویزات پر دستخط، ادائیگیاں، اور تعلیمی پورٹلز تک رسائی وغیرہ۔ پارلیمنٹ کے انفارمیشن پالیسی کمیٹی کے نائب سربراہ انتون گورلکین نے کہا کہ ایپ کا بنیادی مسابقتی فائدہ سرکاری خدمات کے ساتھ اس کی گہری انضمام ہوگی۔ تاہم، انٹرنیٹ پروٹیکشن سوسائٹی کے ڈائریکٹر میخائل کلیماریف نے خبردار کیا ہے کہ اس سرکاری ایپ سے رازداری اور ذاتی آزادیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ روس واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کی رفتار کو سست کر سکتا ہے تاکہ صارفین کو نئی ایپ کی طرف راغب کیا جائے، جیسا کہ یوٹیوب کے ساتھ کیا گیا، جس کے صارفین کی تعداد 2024ء میں 40 ملین سے کم ہو کر 10 ملین سے بھی کم رہ گئی۔
اس ایپ کو غیر رسمی طور پر “ولادز ایپ” کا نام دیا گیا ہے، جو صدر پوتن کے نام سے منسوب ہے۔ اس کی تیاری روس کی ڈیجیٹل خود مختاری کی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا آغاز مغربی پلیٹ فارمز پر انحصار کم کرنے کے لیے کیا گیا۔ ڈیجیٹل ڈیولپمنٹ کے وزیر مقصود شادائیف نے حال ہی میں پوتن کے ساتھ ملاقات میں اس ایپ کی ضرورت پر زور دیا، یہ کہتے ہوئے کہ دیگر ممالک اس معاملے میں روس سے آگے ہیں۔ اگرچہ یہ ایپ فی الحال صرف مقامی استعمال کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے اور بین الاقوامی صارفین اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے، لیکن اس سے روس کے ڈیجیٹل ماحول کی عالمی انٹرنیٹ سے مزید تنہائی بڑھ سکتی ہے۔ ایکس پر موجود پوسٹس سے پتا چلتا ہے کہ اس اقدام کو سرکاری اداروں میں استعمال کے لیے فروغ دیا جا رہا ہے، جسے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کی سیکیورٹی کمزوریوں کے جواب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ایپ سرکاری کنٹرول کے تحت ہونے کی وجہ سے صارفین کے ڈیٹا کی رازداری کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ روس کا غیر ملکی میسجنگ پلیٹ فارمز کو محدود کرنے یا ان کی رفتار کم کرنے کا ممکنہ منصوبہ بھی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ اس سے معلومات کے بہاؤ پر سخت سرکاری کنٹرول ہو سکتا ہے۔ اگرچہ قانون ساز اس ایپ کو قومی سیکیورٹی اور ڈیجیٹل خود مختاری کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، لیکن ماہرین اسے روس کی اندرونی نگرانی کو مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس ایپ کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ صارفین اسے کس حد تک اپناتے ہیں، خاص طور پر اگر واٹس ایپ اور ٹیلی گرام جیسے مقبول پلیٹ فارمز پر پابندی یا رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔ یہ صورتحال روس کے ڈیجیٹل ماحول اور عالمی ٹیکنالوجی سے اس کے تعلقات کے لیے اہم اثرات رکھتی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

