بھارت نے 15 اگست 2025 کو الاسکا میں ہونے والے امریکہ اور روس کے درمیان سربراہی اجلاس کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اجلاس، جو روس-یوکرین تنازع کے تین سال سے زائد عرصے کے بعد منعقد ہو رہا ہے، تنازع کے خاتمے اور امن کے امکانات کو روشن کرتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اس موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہ “یہ جنگ کا دور نہیں ہے”، وزارت نے اس سربراہی اجلاس کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ بھارت ان کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے الاسکا میں ملاقات کریں گے، جس کا بنیادی مقصد یوکرین تنازع کے حل کے لیے بات چیت کرنا ہے۔
Statement by Official Spokesperson⬇️
🔗 https://t.co/22vVtFYFOh pic.twitter.com/zWvhRSRlhp— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) August 9, 2025
یہ سربراہی اجلاس اس وقت منعقد ہو رہا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان تنازع اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکا ہے، جس نے یوکرین کے مشرقی اور جنوبی علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ یہ “انتہائی متوقع ملاقات” 15 اگست 2025 کو الاسکا میں ہوگی، جو 2015 کے بعد پوتن کا امریکہ کا پہلا دورہ ہوگا۔ ٹرمپ نے اس سے قبل آرمینیا-آذربائیجان امن معاہدے کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں کہا تھا کہ یوکرین اور روس کے درمیان ممکنہ طور پر علاقائی تبادلے کے ذریعے امن معاہدہ ممکن ہے۔ تاہم، یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین اپنی سرزمین کا کوئی حصہ روس کو نہیں دے گا اور کوئی بھی معاہدہ جو کییف کو شامل کیے بغیر کیا جائے گا وہ “مردہ حل” ہوگا۔
بھارت کی اس حمایت کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں امریکہ نے بھارت کی جانب سے روس سے تیل کی خریداری پر تنقید کی اور بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی محصولات عائد کیے۔ بھارت نے اسے “غیر منصفانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تیل کی خریداری عالمی منڈی کی صورتحال کے مطابق ہے۔ بھارت، جو روس اور مغرب دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے، اس تنازع میں ایک متوازن کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت امن کے لیے کسی بھی اقدام کی حمایت کرتا ہے اور اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ زیلنسکی نے یوکرین کے اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پائیدار امن کے لیے “واضح اقدامات” اٹھائیں، جبکہ روس نے کہا کہ پوتن اور زیلنسکی کی ملاقات مذاکرات کے “آخری مرحلے” میں ہی ممکن ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





