Bharat Express DD Free Dish

President of India

صدر جمہوریہ نے کہا کہ کوآپریٹو اداروں نے غربت کے خاتمے، خوراک کی حفاظت اور قدرتی وسائل کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن اس تیزی سے بدلتے وقت میں انہیں خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہیں ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے اور انتظامیہ کو مزید پیشہ ورانہ بنانا چاہیے۔

صدر نے کہا کہ جب عصمت دری جیسے گھناؤنے جرم میں عدالتی فیصلے ایک پیڑھی گزر جانے کے بعد آتے ہیں تو عام آدمی محسوس کرتا ہے کہ عدالتی عمل میں حساسیت کی کمی ہے۔ یہ ہماری سماجی زندگی کا افسوسناک پہلو ہے کہ بعض صورتوں میں وسائل رکھنے والے لوگ جرائم کرنے کے بعد بھی بے خوف اور آزاد گھومتے رہتے ہیں۔

پی ایم مودی نے کہا کہ صددرجمہوریہ کو فجی کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز، کمپینین آف دی آرڈر آف فجی سے نوازے جانے پر مبارکباد۔ یہ ہر ہندوستانی کے لےم بے حد فخر اور خوشی کا لمحہ ہے۔ یہ صدرمرموکی قاتدت کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور فجی کے درمارن تارییا عوام سے عوام کے رابطے کی بھی ایک پہچان ہے۔

دربار ہال ، اہم  مواقع اور تقریب کے انعقاد ، مثلاً  قومی ایوارڈز  عطا کئے جانے کی تقریب کا مقام ہے  ۔ ’ دربار   ‘  کی اصطلاح بھارتی حکمرانوں اور انگریزوں کی عدالتوں اور اسمبلیوں  کے انعقاد کے مقام کے لیے استعمال ہوتی تھی ۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے وزیراعظم نریندر مودی کے استعفیٰ کو قبول کرلیا ہے اورانہیں کارگزار وزیراعظم بنے رہنے کو کہا ہے۔ نریندر مودی اور صدردروپدی مرموکی ملاقات کی تصویر بھی سامنے آئی ہیں، جس میں وہ استعفیٰ سونپتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔

اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا کہ ہماری حکومت کے ذریعہ منظور یکساں سول کوڈ کو صدر جمہوریہ کی منظوری مل گئی ہے۔

ہندوستان کی کھو کھو کھلاڑی نسرین شیخ کو آج راشٹرپتی بھون میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے ارجن ایوارڈ سے سرفراز کیا۔ 

ہندوستانی کرکٹر محمد شمی جب ایوارڈ لے رہے تھے تو ان کی والدہ انجم آرا اس فخریہ لمحے کے دوران اپنے بیٹے کو انتہائی غورکے ساتھ دیکھتی ہوئی نظر آئیں۔

ہیرالال سمریا کی تقرری سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ہوا ہے۔ دراصل، 30 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے سنٹرل انفارمیشن کمیشن اور اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن میں خالی آسامیوں کو پرکرنے کی ہدایات دی تھیں۔

ان تمام قیاس آرائیوں اور ہنگاموں کے بیچ حکومتی ذرائع  کا کہنا ہے کہ  پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں انڈیاکا نام تبدیل کرنے کے لیے باضابطہ کارروائی کی تمام باتیں ’’بے کار‘‘ ہیں۔اس میں کوئی صداقت نہیں ہے اور اس سلسلے میں کچھ بھی تیاری نہیں کی جارہی ہے۔