Bharat Express DD Free Dish

poonch

تازہ مشاہدات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند دن قبل سکیورٹی فورسز نے جمعہ کی رات سانبہ ضلع میں بین الاقوامی سرحد کے قریب گھگوال کے پالوڑا گاؤں سے مبینہ طور پر پاکستان سے آئے ایک ڈرون کے ذریعے گرائی گئی اسلحے کی کھیپ برآمد کی تھی۔ حکام کے مطابق اس برآمدگی میں دو پستول، تین میگزین، 16 کارتوس اور ایک گرینیڈ شامل تھا۔

گزشتہ ایک ہفتے سے بھارتی فوج جموں و کشمیر میں کم از کم 30-35 دہشت گردوں کو گھیرنے کے لیے بڑا آپریشن چلا رہی ہے۔ مختلف وجوہات کی بنا پر یہ حالیہ دنوں میں فوج کی سب سے مشکل کارروائیوں میں سے ایک ہے۔

پائن ووڈ اسکول کو ہندوستانی فوج کی بی جی بریگیڈ، ہمیرپور بٹالین چلاتی ہے اور یہ 1995 سے ’آپریشن سدبھاؤنا‘ کے تحت قائم کردہ ایک تعلیمی ادارہ ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو لوک سبھا میں بتایا کہ پہلگام واقعہ کو ان تینوں دہشت گردوں نے انجام دیا ہے۔ امت شاہ نے ایوان میں دہشت گردوں کی شناخت سے متعلق حقائق بتائے تھے۔ اس کے علاوہ ایف ایس ایل چنڈی گڑھ میں جائے وقوعہ سے برآمد شدہ کارتوسوں کی میچنگ کے بعد پہلگام حملے میں ان دہشت گردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوگئی۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی ہفتہ کے روزجموں وکشمیرکے پونچھ کا دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ متاثرہ اہل خانہ سے ملاقات کریں گے۔ پہلگام دہشت گردانہ حملہ کے بعد راہل گاندھی کی جموں وکشمیرکا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ 25 اپریل کو وادی میں گئے تھے۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے، لہٰذا اب متاثرہ علاقوں کے رہائشی اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔

غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر، وزارت دفاع نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ واٹس ایپ پر پھیلنے والی فرضی خبروں سے محتاط رہیں اور صرف معتبر ذرائع پر بھروسہ کریں۔ وزارت نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس کے آفیشل واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔

اے این آئی نے بدھ کے روز دفاعی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ کل رات سے پاکستانی فوج کی طرف سے جاری بمباری 15 معصوم شہری ہلاک اور 43 زخمی ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے ایل او سی پر پونچھ اور ٹنگدھر میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ پاک گولہ باری …

احتیاطی تدابیر کے طور پر، متاثرہ علاقوں میں تمام اسکولوں اور کالجوں کو دن بھر کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ حکام نے رہائشیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں اور اپنی حفاظت کے لیے مقامی عہدیداران کی ہدایت پر پوری طرح عمل کریں۔

خشکی سے بند وادی کے لیے فوجی اور تمام شہری سامان اس شاہراہ سے گزرتا ہے۔ اس اسٹریٹجک ہائی وے کی عارضی بندش سے وادی میں ضروری اشیاء بشمول پٹرولیم مصنوعات، کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔