Bharat Express DD Free Dish

Pollution

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت مسئلے کی سنگینی سے بخوبی واقف ہے اور ایسے احکامات صادر کیے جائیں گے، جن پر عمل ممکن ہو۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ شہری طبقہ اپنی سہولتوں سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا، لیکن آلودگی کا سب سے بڑا بوجھ غریب اور مزدور طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

دہلی کی صورتحال کسی 'گیس چیمبر' سے کم نہیں ہے۔ ہوا کی رفتار انتہائی کم ہے، اور کئی علاقوں میں اے کیو آئی کی سطح 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔ اشوک وہار، روہنی، جہانگیر پوری، اور وزیر پور میں اے کیو آئی  کی سطح 500 تک پہنچ گئی ہے۔

دہلی حکومت کے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے ہفتہ کو قومی دارالحکومت کے اسکولوں کے لیے درج ذیل ہدایات دی ہیں۔ - جاری کردہ ہدایات کے تحت، تمام اسکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پانچویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے آن لائن کلاسز میں شفٹ ہوجائیں۔ - کلاس 6 سے 9 اور کلاس 11 کے طلباء کے لئے،

مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ  کے مطابق، اتوار کی صبح 6 بجے، دہلی کے کئی علاقوں میں اے کیو آئی 490 سے اوپر ریکارڈ کی گئی تھی۔ پورا دارالحکومت 'شدید پلس' کے زمرے میں رہتا ہے۔ نوئیڈا اور دیگر این سی آر علاقوں میں بھی ہوا کا معیار انتہائی خراب ہے۔

آلودگی سے بچاؤ کے لیے بہترین ماسک منتخب کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اصل اہمیت کس چیز کی ہے۔ سب سے پہلی اور اہم خصوصیت فلٹر کرنے کی صلاحیت ہے۔ اچھے ماسک میں پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو جیسے باریک ذرات کو فلٹر کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے،

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ بھارت گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس میں نویں مقام پر ہے، لیکن ملک کی پالیسی سازی کسی بھی بیرونی رینکنگ پر منحصر نہیں ہے۔ گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس موسم کی شدت اور اس سے ہونے والے انسانی و مالی نقصان کی بنیاد پر ممالک کو رینک کرتا ہے۔

جمعرات کو دہلی کے زیادہ تر علاقوں میں فضا ’بہت خراب‘ کیٹیگری میں رہی اور متعدد مقامات پر آلودگی کا لیول تشویشناک حد تک پہنچا۔ دہلی کینٹ میں اے کیوآئی 302 ریکارڈ ہوا، جب کہ بوانا میں 334، ڈی ٹی یو میں 331،

آلودگی کے باعث:دمہ اور سانس کے مریضوں کو شدید دشواری، آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، کھانسی، تھکن، گھبراہٹ اور سر درد کی شکایات میں اضافہ،پھیپھڑوں کی کارکردگی متاثر۔

دارالحکومت دہلی دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی والے شہروں کی فہرست میں سرفہرست ہے۔ایئر کوالٹی وارننگ سسٹم کے مطابق اگلے چند دنوں تک شہر کی ہوا کا معیار 'انتہائی خراب' زمرے میں رہنے کی توقع ہے

آلودہ ہوا کے اثرات بچوں سے لے کربڑوں تک سبھی کے صحت پر دکھائی دے رہے ہیں۔ آنکھوں میں جلن، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور گلے میں خراش جیسے مسائل عام ہو چکے ہیں۔