Bharat Express DD Free Dish

Political News

راجیشور سنگھ نے کہا کہ آج کا نوجوان طبقہ ذات پات، خوشامدی سیاست اور ووٹ بینک کی سیاست کو مسترد کر چکا ہے۔ اس کی امیدیں اب ترقی، ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر قیادت سے جڑی ہوئی ہیں۔

پی ایم مودی دوپہر 2:15 بجے ضلع گولاگھاٹ کے نملی گڑھ پہنچیں گے، جہاں وہ 5,000 کروڑ روپے سے زائد لاگت سے تیار کردہ بانس پر مبنی بایو-ایتھنول پلانٹ کا افتتاح کریں گے۔

مارچ میں اندازاً 1 لاکھ 10 ہزار سے 1 لاکھ 50 ہزار افراد شریک ہوئے، جب کہ اس کے جواب میں "مارچ اگینسٹ فاشزم" کے عنوان سے نکالے گئے مظاہرے میں تقریباً 5 ہزار افراد نے شرکت کی۔ جوابی مظاہرے میں "پناہ گزین خوش آمدید" اور "فار رائٹ کا خاتمہ کرو" جیسے نعرے لگائے گئے۔

پی ایم مودی نے عوام کو یقین دلایا کہ مرکز ان کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے کہا: میں تمام گروپوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ امن کے راستے پر چلیں تاکہ اپنے خوابوں کو پورا کر سکیں اور اپنی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنا سکیں۔

پارٹی کا ماننا ہے کہ امت شاہ کا یہ دورہ نہ صرف گجرات میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو رفتار دے گا، بلکہ آنے والے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے لیے پارٹی کی حکمت عملی کو بھی مضبوط کرے گا۔

پی ایم مودی سڑک کے راستے چوراچاندپور پہنچے، جہاں انہوں نے 7300 کروڑ روپے سے زائد لاگت والی کئی ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔

اپنے خطاب میں پی ایم مودی نے کہا: منی پور کے تو نام میں ہی 'منی' ہے، جو آنے والے وقت میں نارتھ ایسٹ کو چمکانے والا ہے۔ اسی سلسلے میں میں آج آپ سب کے درمیان آیا ہوں، کیونکہ ہم منی پور کو ترقی کے راستے پر لے کر جائیں گے۔

جیسے ہی وزیر اعلیٰ بیلون میں سوار ہوئے، تیز ہوا چلنے لگی، جس سے بیلون فضا میں نہ اُڑ سکا۔ اسی دوران بیلون کے نچلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی۔ موقع پرموجود اہلکاروں نے فوری طور پر صورتحال پر قابو پایا، آگ بجھائی اور وزیر اعلیٰ کو بحفاظت نیچے اتار لیا۔

مودی نے اپنے خطاب میں کہا:میں اس وقت مِیزورم کے لینگپوئی ایئرپورٹ پر موجود ہوں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خراب موسم کے باعث میں ایزول میں آپ سب کے درمیان موجود نہیں ہو پایا، لیکن میں یہاں سے بھی آپ کے پیار اور محبت کو محسوس کر رہا ہوں۔

13 ستمبر 2025 کو میزورم کی ترقیاتی تاریخ میں ایک اور باب کا اضافہ ہوا، جب پی ایم نریندر مودی ریاست کے دورے کے دوران بھارت کے سب سے اونچے ریلوے پل کا افتتاح کریں گے۔ یہ پل قطب مینار سے بھی بلند ہے اور بیربی-سیرانگ ریلوے لائن منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے، جو ریاستی دارالحکومت آئیزول کو بھارت کے قومی ریل نیٹ ورک سے جوڑتا ہے۔