Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

بنگال کا مشہور خوشبودار ”گووند بھوگ“ چاول جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ غیر ملکی دورے کے دوران اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کو خصوصی تحفے کے طور پر پیش کیا۔ وزیر اعظم کی جانب سے عالمی سطح پر بنگال کے اس روایتی چاول کو متعارف کرانے کے بعد کسانوں، چاول تاجروں اور رائس مل صنعت سے وابستہ افراد میں زبردست خوشی پائی جا رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی اور انہیں گجرات کے مشہور ”کیسر آم“ بطور خاص تحفہ پیش کیے۔ وزیر اعظم کے اس اقدام کو نہ صرف سفارتی سطح پر اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس سے گجرات کے آم پیدا کرنے والے کسانوں اور باغبانوں میں بھی خوشی اور امید کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق نورڈک ممالک کے رہنماؤں نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو گرین ٹیکنالوجی، اختراعات اور اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے ماڈل کے طور پر پیش کیا۔ ان ممالک کا ماننا ہے کہ بھارت کے ساتھ سپلائی چین، تحقیق، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے سے نہ صرف معاشی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ عالمی جغرافیائی سیاست میں بھی نئی مضبوطی پیدا ہوگی۔

وزیر اعظم مودی کا حالیہ پانچ ممالک کا غیر ملکی دورہ صرف سفارتی معاہدوں، اسٹریٹجک شراکت داری اور عالمی تعاون تک محدود نہیں رہا بلکہ اپنی منفرد ’گفٹ ڈپلومیسی‘ کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں موضوعِ بحث بن گیا۔ اس دورے میں وزیر اعظم مودی نے عالمی رہنماؤں کو ایسے تحائف پیش کیے جن میں ہندوستان کی تہذیب، فنون، روایتی دستکاری، زرعی ورثہ اور ثقافتی تنوع کی جھلک نمایاں طور پر نظر آئی۔

وزیر اعظم مودی نے اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کیو ڈونگیو کو ہندوستان کے روایتی زرعی ورثے کی علامت سمجھے جانے والے مختلف اقسام کے چاول اور ملیٹس پر مبنی صحت بخش تحائف پیش کیے، جنہیں عالمی سطح پر کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے جارجیا میلونی کو دو خصوصی تحائف پیش کیے، جن میں آسام کا مشہور موگا سلک اسٹال اور منی پور سے متاثر شِرُوئی للی سلک اسٹال شامل ہے۔ موگا سلک کو آسام کا ”گولڈن سلک“ کہا جاتا ہے اور یہ برہم پتر وادی کی ایک نایاب اور شاہانہ پہچان سمجھا جاتا ہے۔ اس سلک کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا قدرتی سنہری رنگ اور دیرپا مضبوطی ہے۔

حاجی ناظم شیخ نے کہا کہ بھارت کو دنیا ایک زرعی ملک کے طور پر جانتی ہے اور جب ایسے ملک کا وزیر اعظم بیرونی ممالک کے دورے کے دوران زراعت، کسانوں اور زرعی مصنوعات کی بات کرتا ہے تو اس کا عالمی سطح پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر بھارتی کسانوں کے مفادات کو سامنے رکھتے ہیں، جس سے دنیا میں بھارتی زرعی مصنوعات کی مانگ بڑھنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

راجیو گاندھی نے ملک میں ٹیکنالوجی اور مواصلاتی انقلاب کی شروعات کی۔ انہوں نے کمپیوٹر اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں کو فروغ دے کر بھارت کو جدید تکنیکی ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو نئی سمت ملی۔

وزیر اعظم مودی اور جارجیا میلونی نے خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت (اے آئی) ، سیمی کنڈکٹر، اہم معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ دونوں لیڈروں  نے اٹالین اسپیس ایجنسی اور اسرو(آئی ایس آر او) کے درمیان جاری تعاون کو سراہا اور تجارتی خلائی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

یہ تنازع 20 مئی 2026 کو منعقد ایک عوامی پروگرام سے جڑا ہوا ہے۔ الزام لگایا گیا ہے کہ راہل گاندھی نے عوامی اسٹیج سے ملک کے اعلیٰ آئینی عہدوں پر فائز رہنماؤں کے لیے “غدار” لفظ استعمال کیا، جو جمہوری اور آئینی اقدار کے خلاف ہے۔بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اشتعال انگیز اور غیر مہذب بیانات سے معاشرے میں نفرت اور کشیدگی پھیل سکتی ہے،