Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

حالیہ برسوں میں بھارت اور سربیا کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ چند ماہ قبل بھارت میں منعقدہ "اے آئی امپیکٹ سمٹ" کے دوران وزیراعظم مودی اور صدر ووچیچ کے درمیان ایک اہم دوطرفہ ملاقات ہوئی تھی،

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ بھارت اور فرانس کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا ایک اہم موقع ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے سال 2026 کو "ایئر آف انوویشن" کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے،

وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ تجارتی معاہدہ ممکنہ طور پر دونوں لیڈران کے درمیان گفتگو کا ایک اہم موضوع ہوگا۔ تاہم، حکام کو یہ امید نہیں ہے کہ سربراہی اجلاس کے دوران کسی حتمی معاہدے پر دستخط ہو سکیں گے۔

وزیراعظم کے اس دورے کو بھارت کی عالمی سفارتی سرگرمیوں، اختراعی صلاحیتوں اور اقتصادی اثر و رسوخ کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ’’بھارت اِنووویٹس‘‘ اور ویوا ٹیک میں شرکت سے بھارت کو عالمی اختراع، ڈیجیٹل تبدیلی اور اسٹارٹ اپ کلچر کے ایک بڑے مرکز کے طور پر پیش کرنے کا موقع ملے گا۔

پیوش گوئل بھارتی سیاست اور اقتصادی پالیسی سازی میں ایک نمایاں شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے مختلف اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھالتے آ رہے ہیں اور حکومت کی اقتصادی اصلاحات، صنعتی ترقی اور عالمی تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

دورے کا آغاز نیس میں منعقد ہونے والے ’’بھارت انوویٹس‘‘ پروگرام سے ہوگا، جس میں صدر میکرون بھی شریک ہوں گے۔ بھارت اور فرانس اس وقت ’’بھارت-فرانس اختراعی سال‘‘ منا رہے ہیں، اور یہ پروگرام دونوں ممالک کے اختراع کاروں، اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گا۔اس کے بعد وزیراعظم مودی 14 سے 16 جون تک سلوواکیہ کا سرکاری دورہ کریں گے۔

مورخہ 13 سے 19 جون 2026 کے درمیان وزیرِاعظم نریندر مودی کے فرانس کے دورے کو اسی اسٹریٹجک شراکت داری کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ دورہ صرف سفارتی رسمی کارروائی نہیں بلکہ بھارت اور فرانس کے درمیان طویل مدتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کا موقع ہے۔

وکرم بھٹ نے اپنی بات کو فلمی انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر فلم ساز اور ناظر کو ایسی کہانیاں پسند ہوتی ہیں جن میں ناانصافی کا جواب دیا جاتا ہے اور مظلوم کو انصاف ملتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’اگر ایک فلم میکر کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ہر کوئی ایسی کہانی پسند کرتا ہے جس میں ظلم اور ناانصافی کے خلاف جواب دیا جائے۔ ‘‘

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ بھارت 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، لیکن خواتین کی مکمل شمولیت کے بغیر یہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق خواتین کا بااختیار ہونا صرف سماجی انصاف کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی تعمیر اور ترقی کی بنیادی شرط ہے۔

سلوواکیہ میں بھارتی برادری کی تعداد حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے اور اب وہاں تقریباً 11 ہزار بھارتی مقیم ہیں۔ یوکرینی باشندوں کے بعد بھارتی کمیونٹی سلوواکیہ کی دوسری بڑی تارکین وطن برادری بن چکی ہے۔ یوگا، آیوروید، بھارتی کھانوں اور بالی ووڈ فلموں کی مقبولیت نے بھی دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔