Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

PM Modi US Visit: پی ایم مودی کے امریکہ دورے کا آج تیسرا دن ہے۔ واشنگٹن میں انہوں نے خاتون اول جل بائیڈن کے ساتھ ایک تقریب میں شرکت کی۔ اس کے بعد وزیر اعظم مودی وائٹ ہاؤس پہنچے، جہاں امریکی صدر جو بائیڈن نے ان کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم کے اس دورے میں …

صدر بائیڈن نے کہا کہ میں ہمیشہ سے مانتا آیا ہوں کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان یہ رشتہ 21ویں صدی کے اہم ترین رشتوں میں سے ایک ہے۔ ہمارے آئین کے پہلے الفاظ یہ ہیں کہ 'ہم، ملک کے شہری، اس کے ذریعے ہم اپنے لوگوں اور مشترکہ اقدار کے درمیان پائیدار رشتہ رکھتے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تشدد سے متاثر منی پور کی صورتحال پر بات چیت کرنے کے لیے 24 جون کو نئی دہلی میں آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تعلقات 21 ویں صدی میں سب سے زیادہ مضبوط تعلقات میں سے ایک ہیں۔ وزیر اعظم مودی کا وائٹ ہاؤس میں واپسی کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں ۔  مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں یہاں سرکاری دورے پروزیراعظم نریندر مودی کی میزبانی کرنے والا پہلا فرد ہوں۔

ہندوستان-امریکہ کے تعلقات بلا مبالغہ مستحکم اور مضبوط ہوئے ہیں، جیسا کہ انتہائی اہم اورابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے متعلق دو طرفہ اقدامات سے اشارہ ملتا ہے۔ یہ ایک اہم مشہور دفاعی معاہدہ ہے اور کواڈ سے ہم آہنگ نقطہ نظر ہے۔

سبرامنیم سوامی نے وزیر اعظم مودی کے امریکی دورے کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ٹویٹ کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ چین بھارت کے خلاف مسلسل جارحانہ رویہ دکھا رہا ہے، اس کے باوجود امریکہ نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے 9 سال مکمل کر لیے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لاکھوں کارکن مختلف پروگراموں کے ذریعے عوامی رابطہ مہم چلا کر اس عظیم تہوار کو منا رہے ہیں۔

پی ایم مودی کی جانب سے امریکی صدر کو دیئے گئے تمام تحائف میں ہندوستانی ثقافت کی جھلک کے ساتھ مختلف ریاستوں سے متعلق چیزیں بھی شامل ہیں۔ پی ایم کی جانب سے صدر جمہوریہ کو پیش کیا گیا صندل کا ڈبہ، جسے جے پور کے ایک کاریگر نے ہاتھ سے بنایا تھا۔

پی ایم مودی نے امریکی صدر جو بائیڈن اور خاتون اول جل بائیڈن کے ساتھ ہندوستان کی مختلف ثقافتوں پر مشتمل ایک کنسرٹ میں شرکت کی۔

کانگریس کی ترجمان سپریہ شرینے نے کہا کہ یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ جب پی ایم مودی امریکہ کے نیویارک شہر پہنچے تو نہ تو بائیڈن حکومت اور نہ ہی فوج کا کوئی بڑا افسر ان کا استقبال کرنے آیا