Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، 'میں بھارت کے بہت قریب ہوں اور پاکستان کے بھی بہت قریب ہوں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں اور کشمیر میں وہ ایک ہزار سال سے لڑ رہے ہیں۔

راجیہ سبھا رکن اورسینئر وکیل کپل سبل نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم سے پارلیمنٹ کا خصوصی سیشن بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے متفقہ قرارداد منظورکرکے دنیا کواتحاد کا پیغام دینے پرزوردیا۔

اس حملے کو 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد بھارت میں سب سے خطرناک دہشت گرد حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ اس سنگین واقعہ پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جانا چاہیے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وہ 26 اپریل کو ویٹیکن سٹی کے سینٹ پیٹرز میں آخری رسومات میں شرکت کریں گی، جس میں کئی عالمی رہنماوں اور معززین کی شرکت متوقع ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا، "جیسا کہ صدر ٹرمپ اور سکریٹری مارکو روبیو نے واضح کیا ہے، امریکہ بھارت کے ساتھ کھڑا ہے، دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔

بھارت نے اس سے قبل بھی معاہدے کے مختلف آرٹیکلز اور ضمیموں کے تحت رد و بدل کی  مانگ کی تھی ۔ بھارت کے مطابق جب یہ معاہدہ 1960 میں ہوا تو جغرافیائی، آبادیاتی اور ماحولیاتی حالات آج سے بہت مختلف تھے۔

اپوزیشن کی طرف سے راہل گاندھی، ملکارجن کھرگے، سنجے سنگھ، رام گوپال یادو، سدیپ بندوپادھیائے اور اسد الدین اویسی جیسے سینئر لیڈروں نے شرکت کی۔

قومی پنچایتی راج دن کے موقع پر ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے عوام سے کہا کہ وہ بھی ان کے ساتھ دہشت گردانہ حملے کے متاثرین کو خراج پیش کرنے میں شامل ہوں۔

پی ایم مودی نے کہا کہ میں صاف صاف کہنا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے یہ حملہ کیا ہے، انہیں اتنی بڑی سزا ملے گی جس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ اب دہشت گردوں کی بچی ہوئی زمین بھی ختم کر دی جائے گی۔ دہشت گردی کے سرغناؤں کی کمر توڑ دی جائے گی اور ہر دہشت گرد کو سزا ضرور ملے گی۔

سی سی ایس میٹنگ میں پہلگام حملے کے تناظر میں موجودہ صورت حال کے جائزے کے ساتھ جوابی کارروائی پر بات چیت کی گئی۔