پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ پہلگام حملے کے بعد بھارت نے آپریشن سندور کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ بھارتی کارروائی کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے کئی شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ جسے بھارت نے ناکام بنا دیا۔ لیکن پاکستان نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب جموں و کشمیر، پنجاب اور راجستھان کے سرحدی علاقوں میں ایک بار پھر ڈرون سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ جموں سری نگر، پٹھان کوٹ، فیروز پور میں بلیک آؤٹ رہا۔ سری نگر میں رات بھر بلیک آؤٹ رہا۔ فیروز پور میں بھارتی فوج نے پاکستانی ڈرون مار گرائے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پوکھران میں بھی ڈرون حملے کی خبر ہے۔ اسی دوران رات گئے پاکستان کے تین ائیر بیس کے قریب زور دار دھماکہ ہوا۔
پاکستان کے 3 ائیر بیسز پر دھماکے
پاکستان کے 3 ائیر بیسز پر دھماکے ہوئے ہیں ،نیو خان ایئربیس پر دھماکہ، راولپنڈی میں ایئربیس کے قریب دھماکہ، شورکوٹ، مرید ایئربیس میں دھماکہ۔ پاک فوج نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
دوسری طرف پی ایم مودی نے تینوں آرمی چیفس، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، این ایس اے اجیت ڈوول کے ساتھ میٹنگ کی۔ راجوری میں بھی بلیک آؤٹ کے درمیان فائرنگ کی تیز آوازیں آرہی ہیں۔
سری نگر میں 2 زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
سری نگر میں دو زوردار دھماکوں کی آواز سنی گئی۔ ادھم پور کے ڈبر علاقے سے زور دار دھماکے کے بعد دھواں اٹھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ہوائی سائرن بجائے جا رہے ہیں۔ راجوری میں مکمل بلیک آؤٹ نافذ ہے۔ مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔
دہلی ایئرپورٹ ٹریول ایڈوائزری
دہلی کے ہوائی اڈے پر کام فی الحال معمول پر ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بیورو آف سول ایوی ایشن سیکورٹی کے احکامات کے مطابق فضائی حدود میں تبدیلی اور حفاظتی اقدامات میں اضافے کی وجہ سے کچھ پروازوں کے شیڈول متاثر ہوسکتے ہیں اور سیکورٹی چیک پوائنٹس پر کارروائی کا وقت طویل ہوسکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




