Bharat Express DD Free Dish

PMJJBY: ’’پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا‘‘ کے 10 سال مکمل، اس اسکیم نے غریبوں اور محروموں کے لیے بیمہ کو بنایا آسان

پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا (PMJJBY) 9 مئی 2015 کو شروع کی گئی تھی تاکہ کم آمدنی والے گروپ کے لوگوں کو سستی لائف انشورنس فراہم کی جا سکے۔ اس کے 10 سال مکمل ہونے پر اس اسکیم کی کامیابی 23 کروڑ سے زیادہ اندراج اور 9 لاکھ خاندانوں کو انشورنس کی ادائیگی کے ساتھ ریکارڈ کی گئی ہے۔ پی ایم جے جے بی وائی ایک سرکاری لائف انشورنس اسکیم ہے، جو ایک سال کی مدت کے لیے کور فراہم کرتی ہے اور اس کی سالانہ تجدید کی جا سکتی ہے۔ اس اسکیم میں کسی بھی وجہ سے موت کی صورت میں لائف انشورنس کور ملتا ہے۔

سب کے لیے لائف انشورنس

یہ منصوبہ قدرتی وجوہات، حادثاتی موت، آفات یا وبائی امراض کی وجہ سے ہونے والی موت کا احاطہ کرتا ہے۔غریبوں اور پسماندہ افراد کے لیے لائف انشورنس کو قابل رسائی بنانے کے مقصد سے اس اسکیم کو سادہ اور باوقار انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔ 2 لاکھ روپے کا انشورنس کور صرف 436 روپے کے سالانہ پریمیم پر دستیاب ہے۔ 18 سے 50 سال کی عمر کے لوگ، جن کے پاس سیونگ اکاؤنٹ ہے، اس اسکیم کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ 55 سال کی عمر تک کوریج فراہم کرتا ہے۔

این آر آئی بھی اس اسکیم کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

بغیر کسی طبی معائنے کے آسان اندراج کی سہولت بینکوں، ڈاک خانوں یا آن لائن پورٹل پر دستیاب ہے۔ این آر آئی بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس اسکیم کا اعلان مرکزی بجٹ 2015 میں کیا گیا تھا، جب 20 فیصد آبادی کے پاس انشورنس کوریج نہیں تھی۔ PMJJBY کا مقصد پورے ملک میں لائف انشورنس کی پہنچ کو بڑھانا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے والوں میں 74 فیصد دیہی علاقوں سے ہیں اور 53 فیصد خواتین ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read