Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

زیلنسکی نے کہا کہ ایس سی او اجلاس سے پہلے دونوں رہنماؤں نے اس مؤقف پر اتفاق کیا کہ جنگ کا خاتمہ فوری جنگ بندی اور ضروری امن سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اجلاس کے دوران ضروری کوششیں کرنے اور روس و دیگر رہنماؤں کو مناسب پیغام دینے کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم مودی مودی کا جاپان کا دورہ ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور سفارتی تعلقات کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ بلیٹ ٹرین منصوبہ نہ صرف بھارت کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا بلکہ ایشیا میں بھارت-جاپان شراکت کو بھی مستحکم کرے گا۔

وزیر اعظم مودی نے جاپان کی معروف یونیورسٹیوں میں بھارتی طلبہ کی تعداد بڑھانے اور پانچ لاکھ لوگوں کے تبادلے کے لئے ایکشن پلان کی بات کی۔ ساتھ ہی 50,000 بھارتی پروفیشنلز کو جاپان بھیجنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

یہ وزیراعظم مودی کا چین کا پہلا دورہ ہے جو 2020 میں گلوان وادی میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت اور چین نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں اتراکھنڈ کے لپولیکھ پاس، ہماچل پردیش کے شپکی لا پاس اور سکم کے ناتھو لا پاس کے ذریعے تجارت کا دوبارہ آغاز شامل ہے۔

وزیر اعظم مودی نے جاپان کے دو سابق وزرائے اعظم — یوشی ہیدے سوگا اور فومیو کشیدا — سے ملاقات کی۔ یہ ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت-جاپان تعلقات کسی ایک رہنما یا حکومت تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی مضبوط بنیاد ہے۔

مودی نے جاپانی وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا کے ساتھ ملاقات کے دوران ایسے پروگراموں کا اعلان کیا جو تعلیم، اسکل ڈیولپمنٹ، ٹیکنالوجی، اور روزگار سے وابستہ ہیں۔

یہ منصوبہ 2017 میں اس وقت کے جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے شروع کیا تھا۔ رپورٹوں کے مطابق جاپان بھارت کو E3 اور E5 ماڈل کی دو بلیٹ ٹرینیں تحفے میں دے گا۔

31 اگست کو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی میٹنگ کے دوران پی ایم نریندر مودی اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات طے ہے۔ یہ ملاقات مودی کی سات سال بعد چین آمد پر ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے وہ 2019 میں چین گئے تھے۔

ایک اہم پیش رفت کے طور پر دونوں ممالک کے قومی سلامتی مشیروں کے درمیان باقاعدہ مذاکرات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو طویل مدتی سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنائے گا۔

پی ایم مودی اور ایشیبا نے اعلیٰ سطحی وفدی مذاکرات میں شرکت کی، جس کے دوران بھارت-جاپان ڈیجیٹل پارٹنرشپ 2.0 کا بھی آغاز ہوا۔