Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن 2026 کے چوتھے دن لوک سبھا میں اس وقت زبردست ہنگامہ دیکھنے میں آیا جب راہل گاندھی نے ڈوکلام تنازع کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا۔ صدر جمہوریہ کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران راہل گاندھی نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے چین کے دباؤ میں آ کر بھارت کی ہزاروں ایکڑ زمین سرنڈر کر دی ہے۔

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے پیر کے روز نئی دہلی میں وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران ریاست ہریانہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی اسکیموں، مستقبل کی ترجیحات اور موجودہ قومی و ریاستی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

وزیر خزانہ نرملا سیتارامن اجلاس کے دوران ایک تفصیلی پریزنٹیشن کے ذریعے مرکزی بجٹ 2026 کی خصوصیات اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالیں گی۔ وہ بتائیں گی کہ یہ بجٹ کس طرح وکست بھارت 2047 کے ہدف کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں پیر، 2 فروری کا دن انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ لوک سبھا میں صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ دوپہر 12 بجے شروع ہونے والی اس بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت سیاسی نوک جھونک کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک نیا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت آئندہ ایران کے بجائے وینزویلا سے تیل خریدے گا، جس سے نہ صرف کاراکاس کو اقتصادی فائدہ پہنچے گا بلکہ نئی دہلی ایرانی تیل سپلائی سے بھی دور ہو جائے گا۔

وزیراعظم مودی نے پنجاب کے جالندھر میں سنت گرو روی داس مہاراج کی 649ویں جینتی کے موقع پر منعقدہ عظیم الشان تقریب میں شرکت کی۔ یہ پروگرام ڈیرہ سچ کھنڈ بلّاں میں منعقد ہوا، جہاں وزیرِاعظم نے مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سنت روی داس کے آشیرواد سے بھارت ضرور وکست ملک بننے کا ہدف حاصل کرے گا۔

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کیے گئے مرکزی بجٹ کو ’’وکست بھارت بجٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیرِاعظم مودی کے عزم اور وژن کی بھرپور تعریف کی ہے۔

وزیراعظم مودی نے عام بجٹ 2026-27 پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ محض تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کی دستاویز نہیں بلکہ بھارت کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنانے کی سمت ایک مضبوط اور فیصلہ کن قدم ہے۔

مرکزی بجٹ کی پیشکش کے بعد وزیرِاعظم نریندر مودی نے حکومت کے معاشی وژن کو واضح کرتے ہوئے بجٹ کی بھرپور ستائش کی ہے۔ انہوں نے اس بجٹ کو ’’بے پناہ مواقع کا بجٹ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد کو مزید مضبوط کرے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے 2026-27 کے بجٹ پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ موجودہ دور کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے والا ہے۔ انہوں نے مالیاتی وزیر نرملہ سیتارمن کو کامیاب بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی اور اسے تاریخی قرار دیا۔