Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Address

روڈ شو کے دوران سڑکوں پر لوگوں کا جم غفیر امڈ آیا، جس میں نوجوانوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ راستے بھر لوگوں نے وزیر اعظم کا پرتپاک استقبال کیا اور جوش و خروش کا اظہار کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اجتماع اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست میں سیاسی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی اس بل پر لوک سبھا میں خطاب کریں گے اور اس کی اہمیت، مقاصد اور ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالیں گے۔ وہ اس اقدام کو خواتین کی سیاسی شمولیت بڑھانے اور جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری قرار دیں گے۔ دوسری جانب قانون وزیر ارجن میگھوال اس بل کو باضابطہ طور پر پیش کریں گے۔

منگل 14 اپریل کو اپنے بیان میں امت شاہ نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ یہ ملک کی ’ناری شکتی‘ کا بنیادی حق بھی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ موجودہ حکومت اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسے مزید تاخیر کے بغیر عملی شکل دی جانی چاہیے۔

بی جے پی کے منشور میں سب سے زیادہ توجہ خواتین پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کی حکومت قائم ہوتی ہے تو ہر گھر کی خاتون سربراہ کو ماہانہ 2 ہزار روپے کی مالی مدد دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی سال میں تین مفت ایل پی جی سلنڈر فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے، جس کا مقصد گھریلو اخراجات کو کم کرنا اور خواتین کو معاشی سہارا دینا ہے۔

معروف سماجی کارکن ڈاکٹر شالینی علی کے مطابق قدیم ہندوستان میں خواتین کو نمایاں مقام حاصل تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ سماجی برائیوں اور عدم مساوات کے باعث ان کی حیثیت کمزور ہو گئی۔ تاہم جدید ہندوستان میں تعلیم، بیداری اور حکومتی پالیسیوں کے ذریعے خواتین کو دوبارہ بااختیار بنانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔

وزیر اعظم مودی 14 اپریل کو دہلی-دہرادون اقتصادی کوریڈور کا افتتاح کریں گے، جو ملک کے انفراسٹرکچر میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس 213 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے کی تکمیل سے دہلی سے دہرادون کا سفر، جو پہلے چھ گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت لیتا تھا، اب تقریباً ڈھائی گھنٹے میں طے کیا جا سکے گا۔

وزیر اعظم نے سماجی انصاف کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کی جانب گامزن ہے جہاں مساوات اور انصاف محض نعرے نہیں بلکہ عملی حقیقت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے جاری انتظار اب ختم ہونے کو ہے اور ریاستی اسمبلیوں سے لے کر پارلیمنٹ تک خواتین کی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

اس مہم کا مقصد خواتین کے حقوق اور ان کی نمائندگی کو مضبوط بنانے کے لیے حال ہی میں پیش کیے گئے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ کے تئیں عوامی حمایت کا اظہار کرنا اور اس کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ پروگرام کے منتظمین کے مطابق یہ صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک سماجی تحریک ہے، جس کے ذریعے خواتین کے مقام کو مزید مستحکم کرنے کا پیغام دیا جائے گا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو ہر معاملے کو ایک ”ایونٹ“ بنانے کی عادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس طرح کے حساس معاملات پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت نے ابھی تک بل کا مسودہ پیش نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود اپوزیشن سے تعاون مانگا جا رہا ہے، جو قابل اعتراض ہے۔

وزیر اعظم مودی پیر کے روز وگیان بھون میں ”ناری شکتی وندن سمیلن“ سے خطاب کریں گے۔ اس قومی سطح کے پروگرام میں وہ ملک بھر کی خواتین سے براہ راست مکالمہ بھی کریں گے اور مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔