Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Address

کانگریس لیڈر راگنی نائک نے الزام لگایا کہ حکومت حدبندی کو ایک ’’ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور اس کے ذریعے ملک کی یکجہتی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کے خطاب کو کانگریس کے خلاف سازش بھی کہا۔

سی پی آئی لیڈر نے اپنے خط میں مزید کہا کہ وزیر اعظم کا خطاب بنیادی طور پر سیاسی پیغام پر مبنی تھا، جسے سرکاری پلیٹ فارمز کے ذریعے نشر کرنا نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر دوردرشن اور سنسد ٹی وی جیسے سرکاری نشریاتی اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی فنڈ سے چلنے والے ان پلیٹ فارمز کا استعمال کسی ایک سیاسی جماعت یا لیڈر کے مفاد میں نہیں ہونا چاہیے۔

ملیکارجن کھڑگے اور جے رام رمیش نے خواتین ریزرویشن بل پر حکومت کو گھیر لیا۔ جانیے کیوں کانگریس نے وزیر اعظم کے خطاب کو ’بحرانی تقریر‘ قرار دیا اور اصل تنازع کیا ہے؟

نریندر مودی نے جمعہ کو راجیہ سبھا میں ہری ونش نارائن سنگھ کو مسلسل تیسری بار نائب چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے تجربے اور طرزِ کار کی کھل کر تعریف کی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہری ونش نارائن سنگھ کا تیسری بار اس عہدے پر منتخب ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایوان کو ان پر گہرا اعتماد ہے۔

لوک سبھا میں اس اہم بحث کے دوران تازہ ووٹنگ میں 333 اراکین میں سے 207 ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 126 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس ووٹنگ کے بعد ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ مزید بڑھ گیا۔ حکومت اس بل کو آئینی ترمیم کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے، جس کے لیے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت درکار ہوگی۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ وزیر اعظم نے آج ایوان میں اس موضوع کا ذکر کیا، لیکن صرف آدھی بات بتائی۔ ”میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اس وقت اس کی مخالفت بی جے پی نے ہی کی تھی“۔

وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ہندوستانی ریلوے کے پورے نظام میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں اور ان کے مثبت نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران واضح پالیسی، جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے ریلوے کے حفاظتی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران خواتین ریزرویشن بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے عمل میں کسی بھی ریاست یا علاقے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشہ بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بل کے ذریعے واقعی تمام طبقات کی خواتین کو فائدہ ہوگا، خاص طور پر مسلم اور او بی سی خواتین کو۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ریزرویشن دینا ہے تو پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ خود نشستیں مختص کریں، نہ کہ علاقوں کی بنیاد پر تبدیلی کی جائے۔

ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اگر اپوزیشن اس بل کی مخالفت کرتی ہے تو اس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا، لیکن اگر وہ اس کی حمایت کرتی ہے تو وہ خود اپوزیشن کو اس کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کسی قسم کا کریڈٹ نہیں چاہیے۔