Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Address

وزیر اعظم نے کہا کہ تقریباً 15 برس قبل ٹی ایم سی ”ماں، ماٹی اور مانُش“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، لیکن آج اس نعرے کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے ان کی ناکامی اور بدعنوانی بے نقاب ہو جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی پالیسیوں نے ماں کو رونے پر مجبور کیا، ماٹی کو سنڈیکیٹ اور دراندازوں کے حوالے کر دیا اور مانُش کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ووٹروں کی بڑی تعداد دیکھ کر ٹی ایم سی کے لیڈر حیران اور پریشان ہیں کیونکہ انہیں اتنی بڑی شرکت کی توقع نہیں تھی۔ مودی کے مطابق ریاستی حکومت نے اپنے کرتوتوں سے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے، جس کے باعث لوگ آئے دن عدالتوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز کہا کہ نیتی آیوگ ملک کے پالیسی سازی کے نظام کا ایک اہم ستون بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ باہمی وفاقیت کو فروغ دینے، اصلاحات کو آگے بڑھانے اور ’ایز آف لیونگ‘ یعنی زندگی کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مغربی بنگال کے انتخابی ماحول کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی کا ایک مختلف اور پرسکون انداز اُس وقت سامنے آیا جب انہوں نے جمعہ کی صبح کولکاتا میں ہُگلی دریا کے کنارے وقت گزارا۔ انتخابی مصروفیات کے باوجود یہ لمحہ خاصا منفرد رہا، جہاں انہوں نے نہ صرف قدرتی مناظر سے لطف اٹھایا بلکہ مقامی افراد سے بھی خوشگوار ملاقات کی۔

رتنا دیبناتھ نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی سے ملاقات کے دوران انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی لڑائی کا ذکر کیا، جس پر وزیر اعظم نے ان کی ہمت کی تعریف کی۔ ان کے مطابق ”وزیر اعظم نے مجھ سے کہا کہ میں بہت بہادری کے ساتھ لڑ رہی ہوں۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ میں اپنی بیٹی کے لیے انصاف چاہتی ہوں اور اس کا نام اور تصویر دنیا کے سامنے لانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر میرا حوصلہ بڑھایا“۔

وزیر اعظم نے ریلی میں موجود ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے باوجود عوام کی بڑی تعداد کا جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ لوگوں کا یہ جذبہ اور محنت رائیگاں نہیں جائے گی، ہم ترقی کے ذریعے آپ کو سود سمیت جواب دیں گے“۔ ان کے اس بیان پر مجمع نے زوردار تالیاں بجا کر ردعمل دیا۔

وزیر اعظم کے اس دورے کے دوران کئی اہم سرکاری پروگرام منعقد کیے جانے کا امکان ہے، جن کے لیے ریاستی انتظامیہ نے جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ اگرچہ ابھی تک دورے کا مکمل شیڈول جاری نہیں کیا گیا، تاہم مختلف مقامات پر تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔

مختلف علاقوں سے عوام جوق در جوق میدان میں پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جلسہ گاہ کھچا کھچ بھر گیا اور ہر طرف ’مودی-مودی‘ کے نعرے گونجنے لگے۔ عوام میں جوش اس قدر تھا کہ کئی افراد وزیر اعظم کی تصاویر اور ان کی والدہ کے ساتھ لی گئی تصاویر ہاتھوں میں اٹھائے نظر آئے، جبکہ کچھ مداح خصوصی طور پر ان کی پینٹنگز بنا کر لائے تھے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ڈاکٹر ہانڈے کے اس عمل کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے ان کی پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ”یہ ایک انتہائی اہم پیغام ہے۔ مجھے امید ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ووٹنگ میں حصہ لیں گے اور ہمارے جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنائیں گے“۔

یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے بلکہ سرمایہ کاری، خدمات اور زرعی تعاون میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی طلبہ اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور پیشہ ورانہ مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔