Bharat Express DD Free Dish

Palestinians

اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 59,676 فلسطینی ہلاک اور 143,965 زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جن کی تجویز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی تھی۔ اسرائیل نے اس معاہدے کے شرائط کو قبول کر لیا ہے، لیکن حماس نے جنگ کے مکمل خاتمے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

فلسطینی رہنماؤں اور مقامی آبادی نے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ اس بحران کا حل نکالا جا سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ کے لوگ نہ صرف خوراک کی کمی بلکہ پانی اور ادویات کی قلت کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔

مشرقی غزہ شہر کے شجاعیہ اور زیتون کے علاقے بھی شدید بمباری اور فضائی حملوں کی زد میں آئے جس سے کئی رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔گزشتہ جمعرات کے روزبھی اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں ڈرون، فضائی اور توپ خانے سے حملے کیے تھے، جن میں 45 فلسطینی مارے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو نے بدھ کے روز امریکی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’یہ پہلا اچھا خیال ہے جو میں نے سنا ہے۔ یہ ایک قابل ذکر خیال ہے۔ میرے خیال میں اسے آگے بڑھایا جانا چاہیے اور اس پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے - کیونکہ یہ سب کے لیے ایک مختلف مستقبل بنائے گا۔‘‘

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بدھ کے روز اس خیال کو مسترد کر دیا کہ مصر غزہ کے لوگوں بے گھر ہونے میں مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مصری اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ’درجنوں یرغمالیوں اور ان کے اہل خانہ کی تکالیف‘ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کو آگے بڑھانے میں مدد کی۔

اسرائیل نے جمعرات کو غزہ پٹی میں تازہ ہوائی حملے کئے، جس میں 26 افراد مارے گئے۔ ان حملوں میں حماس کے سیکورٹی اہلکاروں اوراسرائیل کے اعلان کردہ انسانی زون کوبھی نشانہ بنایا گیا۔ مُواسی کے علاقے میں 3 بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اسرائیل نے پولیس فورسزاورمقامی کمیٹیوں کونشانہ بنایا جس سے غزہ میں امن وامان پربھی بڑااثرپڑا۔

یاسر عرفات فاؤنڈیشن بورڈ کے چیئرمین احمد سوبوح نے کہا کہ انہوں نے بقا، فتح اور ’ہمارے حقوق اور آزاد ریاست‘ کو عالمی سطح پر سب سے آگے رکھنے کے لیے قومی اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فورسز نے رات کے دوران ’’دو وحشیانہ قتل عام‘‘ کا ارتکاب کرتے ہوئے ایک مسجد اور ایک اسکول کی پناہ گاہ پر بمباری کی اور کم از کم 24 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ وہیں، ٹیلی گرام پر بتایا گیا کہ وسطی غزہ میں ہونے والے حملوں میں تقریباً 93 دیگر زخمی ہو گئے۔