Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Terrorist Attack

سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے، سی پی پی چیئرپرسن سونیا گاندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈراور پارٹی کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی، پارٹی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا، کانگریس جنرل سکریٹری ڈاکٹرسید ناصر حسین، امبیکا سونی اورسلمان خورشید سمیت  دیگرکانگریس لیڈران موجود رہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ٹیسٹ پاکستان کی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے، لیکن اس کے نتائج خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر بھارت نے اسے اپنے خلاف براہ راست خطرہ سمجھا تو جوابی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

بھارت نے بھارت میں پاکستان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر پابندی لگا دی ہے۔ اب پاکستان کا اکاونٹ بھارت میں نظر نہیں آئے گا۔ اس فیصلے کے پیچھے کی وجہ جو ظاہر طور پر سمجھی جارہی ہے وہ پاکستان کی حکومت کی طرف سے پروپگینڈہ ہے۔

بانڈی پورہ پولیس کو معتبر اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ لشکرِ طیبہ سے وابستہ کچھ اوور گراؤنڈ ورکرز نے اپنے ہینڈلرز کے احکامات پر ایک مجرمانہ سازش تیار کی ہے اور وہ پولیس، سیکیورٹی فورسز اور غیر مقامی افراد پر حملہ کرنے کے موقع کی تلاش میں ہیں۔

شملہ معاہدہ 2 جولائی 1972 کو بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جو 1971 کی جنگ کے بعد امن قائم کرنے اور تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دستخط کیا گیا۔ اسے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور پاکستانی صدر ذوالفقار علی بھٹو نے شملہ میں منظور کیا تھا۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی اجلاس کی صدارت کی اور کہا کہ وہ جموں و کشمیر انتظامیہ کے ساتھ مل کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو واپس لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اگر ہندوستان میں بھی دہشت گردی ہوگی تو اس کو پورے خلوص سے مذمت کریں گے لیکن اگر ہمارے خلاف اس طرح کے اقدامات ہوں گے تو ہمیں حق پہنچتا ہے کہ ہم بھی عالمی قوانین کے مطابق اس پر ردِ عمل کا اختیار رکھتے ہیں اور اختیار کریں گے۔

آپ کو بتادیں کہ نیوی آفیسر ونے نروال کی اہلیہ ہمانشی نے بتایا تھا کہ ان کے شوہر کے مذہب کے بارے میں پوچھ کر دہشت گردوں نے انہیں اس لیے گولی مار دی کہ وہ مسلمان نہیں تھے۔ اس بیان کے وائرل ہونے کے بعد ملک بھر سے ردعمل آ رہا ہے۔

جموں و کشمیر کی مختلف ضلعی انتظامیہ نے کشمیری پنڈتوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔بارہمولہ کے بعد اب اننت ناگ میں بھی کشمیری پنڈتوں کی حفاظت کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ کشمیری پنڈت ملازمین کچھ وقت کے لیے گھر سے کام کریں گے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پہلے سے ہی کمزور تجارتی تعلقات کو ایک اور بڑا دھچکا لگنے والا ہے۔ اٹاری چیک پوسٹ کو بند کرنے کے فیصلے سے خاص طور پر چھوٹے تاجر اور صنعتیں متاثر ہوں گی۔