Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Terror Attack

یہ احتجاج صبح 10 بجے ایشان کیمپس سے شروع ہوا اور گریٹر نوئیڈا کی سڑکوں پر جاری رہا، اس میں شامل  شرکاء نے بھارت ماتا کی جے، وندے ماترم، ہندوستان زندہ باد اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے۔

راکھی ساونت نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا، ہم نہیں جانتے کہ یہ سب سازش کون کر رہا ہے، صرف خدا ہی جانتا ہے۔ لیکن اس سے بے گناہوں کو نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ میں مانتی ہوں کہ وہ پاکستانی ہے ،لیکن وہ ہندوستان کی بہو ہے

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آرایف) نے شروعات میں ذمہ داری لی تھی، لیکن ہندوستانی حکومت کے سخت اقدامات کے بعد ٹی آرایف نے اپنا بیان بدل دیا ہے۔ ٹی آرایف نے اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ہیک ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے حملے سے انکارکیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد بلاول بھٹو نے سکھر میں دریائے سندھ کے کنارے منعقدہ جلسہ عام میں بھارت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ دریائے سندھ پر پاکستان کا حق تھا، ہے اور  ہمیشہ  رہے گا۔

پہلگام حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ نئی دہلی نے اسلام آباد کے خلاف کئی سخت سفارتی اور تزویراتی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں 1960 کے انڈس واٹر ٹریٹی کی فوری معطلی، اٹاری انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ کو بند کرنے، پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا سروسز کی فوری معطلی سمیت دیگر اقدامات شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ہی فوج دہشت گردوں کی تلاش میں کشمیر کے ایک ایک انچ کی تلاشی لے رہی ہے۔ اسی تسلسل میں فوج نے جمعہ سے اب تک دہشت گردوں کے چھ مکانات کو تباہ  و برباد کردیا ہے۔

محمد راشد کا کہنا تھا کہ ان کا پورا خاندان ہندوستان میں ہے اور وہ خود یہاں صرف شادی اور بھائی کی برسی میں شرکت کے لیے آئے تھے لیکن اب حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ انہیں واپس جانا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دس سال بعد آئے تھے اور ڈیڑھ مہینے رکنے کا ارادہ تھا لیکن اب صرف 15 دن بعد ہی واپس جانا پڑ رہا ہے۔

’’ہمیں آدھی دنیا کا قرض چکانا ہے، بھارت پر حملہ نہیں ہونے دیں گے، سب کو پیسہ چاہیے‘‘۔ (ہم آدھی دنیا کے قرض دار ہیں - کوئی بھی ہندوستان کو ہم پر حملہ نہیں کرنے دے گا، وہ سب اپنے واجبات واپس چاہتے ہیں۔)

نندن وردھمان کی تصویر لے کر مشتعل کرنے کی کوشش کی، اس نے وہ  تصویر ب ہاتھ میں پکڑی ہوئی  تھی، جس پر لکھا تھا ’’چائے لاجواب ہے۔‘‘ یہ حرکت ہندوستانیوں کو مشتعل کرنے اور ان کی توہین کرنے کی کوشش تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، 'میں بھارت کے بہت قریب ہوں اور پاکستان کے بھی بہت قریب ہوں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں اور کشمیر میں وہ ایک ہزار سال سے لڑ رہے ہیں۔