جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستانی حکومت پاکستان کے خلاف مسلسل سخت اقدامات کر رہی ہے، جس میں سندھ طاس معاہدہ کو روکنا اور کئی سفارتی فیصلے بھی شامل ہیں۔ پاکستان سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پر ناراض ہے۔ اس کے لیڈروں نے بھارت کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ اس حوالے سے پاکستانی رہنما بلاول بھٹو نے کہا کہ دریائے سندھ میں یا تو پانی بہے گا یا ان کا (بھارت کا) خون بہے گا، دریائے سندھ ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا۔
بلاول بھٹو نے بھارت پر بولا حملہ
“دریائے سندھ ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا، اِس دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا اُن کا خون بہے گا۔@BBhuttoZardari
#ThanksBBZ pic.twitter.com/LfNVVW9TnT— PPP (@MediaCellPPP) April 25, 2025
پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد بلاول بھٹو نے سکھر میں دریائے سندھ کے کنارے منعقدہ جلسہ عام میں بھارت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ دریائے سندھ پر پاکستان کا حق تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
بلاول بھٹو نے کھلی دھمکی دے دی
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر کسی نے ہمارا حصہ چھیننے کی کوشش کی تو یا تو اس دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا پھر اس پر قبضہ کرنے والوں کا خون بہے گا۔ بھارت کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبادی زیادہ ہونے سے یہ طےنہیں ہوتا کہ پانی کس کا ہے۔
پاکستانیوں سے متحد رہنے کی اپیل
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستانی عوام بہادر ہیں اور کسی بھی سازش کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ سرحدوں پر تعینات ہماری فوج ہر چیلنج کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ بلاول بھٹو نے دریائے سندھ کو پورے پاکستان کا مشترکہ ورثہ قرار دیتے ہوئے اہل وطن سے متحد رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی دنیا کو بتائے گا کہ دریائے سندھ پر قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
چاروں صوبوں کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا چار بھائی ہیں۔ یہ چاروں مل کر بھارت کے ہر منصوبے کو ناکام بنا دیں گے۔ بلاول بھٹو کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت نے پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسے پاکستان نے ‘جنگ کے مترادف’ قرار دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


