Urdu Conclave 2026

Indus Waters Treaty

جموں و کشمیر کے سیاسی تجزیہ کار رشید راحیل نے ’آپریشن سندور‘ کے بعد سندھ طاس معاہدہ روکنے کے ہندوستان کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ معاہدے کی منسوخی کا پہلا اثر جموں و کشمیر اور لداخ پر پڑے گا۔

بھارت نے گزشتہ سال پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا تھا۔ ہریش نے کہا کہ بھارت کی برداشت اور نرمی کے باوجود پاکستان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کو فروغ دے کر کسی قسم کی شراکت داری یا اعتماد قائم نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک بھارت کے خلاف مسلسل دہشت گردی کو ہوا دے گا تو بھارت خاموش نہیں بیٹھے گا اور اپنے دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر مجوزہ 1,856 میگاواٹ ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے لیے ماحولیاتی منظوری کی سفارش کی ہے۔ اس منصوبے کو تزویراتی طور پر اہم سمجھا جاتا ہے، جو پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بحال ہوا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نو سال کے مذاکرات کے بعد 1960 میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت مغربی دریا پاکستان اور مشرقی دریا ہندوستان کے لیے مختص کیے گئے۔

سنگھ نے مزید کہا کہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے حالات میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں، جس کے لیے معاہدے کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

بھارت نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے 1960 میں سند طاس معاہدہ نافذ ہونے کے بعد سے بھارت پر تین جنگیں اور ہزاروں دہشت گردانہ حملے کر کے سندھ آبی معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کی ہے۔

اقوام متحدہ میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے ہندوستان نے کہا ہے کہ سندھ آبی معاہدہ اس وقت تک التوا میں رہے گا جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت ختم نہیں کرتا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی وزارت آبی وسائل نے مبینہ طور پر نئی دہلی کو خط لکھا ہے کہ وہ انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت پاکستانی سرزمین میں دریاؤں کا بہاؤ دوبارہ شروع کرے۔

پاکستان کے وزیر دفاع کا خیال ہے کہ ہندوستان کو بین الاقوامی فورمز پر وہ حمایت نہیں مل رہی جس کی اسے توقع تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان کے الزامات کو عالمی برادری نے مسترد کر دیا ہے۔ مودی حکومت کے پاس اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے۔