نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) پارلیمنٹری پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سابق وزیرِ اعظم جواہر لال نہرو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نہرو نے ملک کو دو بار تقسیم کیا۔ ایک بار ریڈکلف لائن کے ذریعے اور دوسری بار سندھ طاس معاہدے کے تحت 80 فیصد دریا کا پانی پاکستان کو دے کر۔ اے این آئی کی خبر کے مطابق وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’نہرو نے ملک کو دو بار تقسیم کیا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت 80 فیصد پانی پاکستان کو دے دیا گیا۔ بعد میں اپنے سکریٹری کے ذریعے، نہرو نے اس غلطی کو تسلیم کیا اور کہا کہ اس سے بھارت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ یہ معاہدہ کسانوں کے مفادات کے خلاف تھا۔‘‘
دریں اثنا بی جے پی رکن پارلیمان جگدمبیکا پال نے نہرو کے اس عمل کو ’’ملک کے ساتھ غداری‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر نہرو جمہوری عمل کے تحت منتخب وزیرِ اعظم ہوتے، تو انھیں یہ معاہدہ کرنے سے قبل پارلیمان کی منظوری لینی چاہیے تھی۔ بغیر کابینہ اور پارلیمان کے اعتماد کے وہ پاکستان گئے اور اکیلے معاہدہ کر کے واپس آئے۔‘‘ بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد نے بھی وزیر اعظم مودی کے اس بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں فخر ہے کہ وزیر اعظم نے سچائی بیان کی۔ نہرو نے نہ صرف بغیر منظوری معاہدہ کیا بلکہ پاکستان کو 80 کروڑ روپے بھی دیے۔‘‘
واضح رہے کہ پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے، ہندوستان نے بین الاقوامی قانون کے تحت ایک خودمختار ملک کے طور پر اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو اس وقت تک موقوف کر دیا جب تک کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی کے لیے اپنی حمایت سے باز نہ آئے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نو سال کے مذاکرات کے بعد 1960 میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان اور مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) ہندوستان کے لیے مختص کیے گئے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



