بھارت نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے 1960 میں سند طاس معاہدہ نافذ ہونے کے بعد سے بھارت پر تین جنگیں اور ہزاروں دہشت گردانہ حملے کر کے سندھ آبی معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کی ہے۔ بھارت نے مزید کہا کہ پاکستان اس معاہدے کی معطلی کے حوالے سے غلط معلومات پھیلا رہا ہے۔
ہندوستانی سفیر پی ہریش نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار بالائی دریائی ریاست کے طور پر کام کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہی نے 1960 کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی ہے۔ انھوں نے غلط معلومات کو بے نقاب کرنے اور وضاحت کرنے کے لیے کئی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی اور وضاحت کی کہ آخر بھارت نے یہ معاہدہ کیوں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے انھوں نے واضح کرتے ہوئے کہا ’’جب تک کہ پاکستان، جو کہ دہشت گردی کا عالمی مرکز ہے، قابل اعتبار اور ناقابل واپسی طور پر سرحد پار دہشت گردی کے لیے اپنی حمایت ختم نہیں کرتا تب تک یہ معاہدہ معطل رہے گا‘‘۔
بھارت نے نیک نیتی سے کیا تھا معاہدہ، لیکن پاکستان۔۔۔
ہندوستانی سفیر پی ہریش نے کہا کہ بھارت نے 65 سال پہلے نیک نیتی کے ساتھ معاہدہ کیا تھا لیکن ان ساڑھے چھ دہائیوں کے دوران پاکستان نے ہندوستان پر تین جنگیں اور ہزاروں دہشت گرد انہ حملے کر کے معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہریش نے کہا کہ دہشت گردانہ حملوں میں ہزاروں ہندوستانیوں کی جانیں گئیں ’’جن میں سے سب سے تازہ ترین حملہ گزشتہ ماہ پہلگام میں سیاحوں پر حملہ تھا‘‘۔
پی ہریش نے مزید کہا کہ ان 65 سالوں میں سرحد پار حملوں کے ذریعے نہ صرف سیکورٹی خدشات کو بڑھانے کے معاملے میں، بلکہ صاف توانائی پیدا کرنے، موسمیاتی تبدیلی اور آبادیاتی تبدیلی کے لیے بڑھتی ہوئی ضروریات کے حوالے سے دور رس بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ’’تاہم پاکستان نے اس بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی کسی بھی قسم کی تبدیلیوں اور شرائط میں کسی بھی تبدیلی کو، جو کہ معاہدے کے تحت جائز ہے، مسلسل روکنا جاری رکھا ہوا ہے۔ درحقیقت 2012 میں دہشت گردوں نے J&K میں تلبل نیویگیشن پروجیکٹ پر بھی حملہ کیا تھا۔‘‘
انھوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں متعدد مواقع پر اس معاہدے میں ترمیم پر بات کرنے میں پاکستان نے دلچسپی نہیں لی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’پاکستان کا یہ رویہ ہندوستان کے جائز حقوق کے مکمل استعمال کو روکنے کے لیے لگاتار جاری ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



