Bharat Express DD Free Dish

Bilawal Bhutto

بھارت نے پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا تھا۔ تقریباً 14 ماہ بعد پاکستان نے اب دھمکیوں کا سہارا لیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام آباد اسے برداشت نہیں کرے گا۔ پاکستان کے تمام حربے ناکام ہوگئے تواب وہ اپنے پرانے اوربوسیدہ ہتھکنڈوں کی طرف لوٹ آیا ہے۔ اس نے بھارت کودھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگراس نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اسلام آباد جوابی کارروائی کے لیے تیارہے۔

بھارتی خفیہ ایجنسیاں اب مسعود اظہر کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی اُٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستان واقعی اس کی گرفتاری کے لیے عملی قدم اٹھائے گا یا ایک بار پھر  بہانوں کا سہارا لے گا؟

ممکن ہے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے مسعود اظہر کو بھارت کے حملے کے خوف سے زیر زمین چھپا دیا ہو، کیونکہ مسعود آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کی سرپرستی میں بھارت کے خلاف دہشت گردانہ حملے کرتا ہے۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ جس  اقوام متحدہ میں انہوں نے بات کی، اسی نے مختلف ممالک کے سفارت کاروں کی ایک ٹیم تحقیقات کے لیے پاکستان بھیجی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے قتل کے معاملے میں پاکستان کی جانب سے کی گئی تحقیقات ناقص تھیں

وزیر خارجہ جے شنکر نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر سے متعلق واحد مسئلہ جس پر نئی دہلی اسلام آباد کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار ہے وہ ہے پاکستان کے غیر قانونی طور پر قابض علاقے کے کچھ حصوں کو خالی کرنا۔

بلاول بھٹو نے پہلگام حملے سے متعلق پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔

چند دنوں میں یہ دوسرا موقع ہے جب کسی اعلیٰ پاکستانی لیڈر نے دہشت گردی کی حمایت کا اعتراف کیا ہے۔ یہ پہلگام حملے کے بعد پاکستان پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور ہندوستان کے جارحانہ موقف سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں لیڈران کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو خدشہ ہے کہ ہندوستان کوئی بڑی فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

سی آر پاٹل نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ تیسری عالمی جنگ پانی کے لیے لڑی جا سکتی ہے، لیکن انہیں یقین تھا کہ ہندوستان پانی کے لیے کوئی جنگ نہیں لڑے گا

پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد بلاول بھٹو نے سکھر میں دریائے سندھ کے کنارے منعقدہ جلسہ عام میں بھارت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ دریائے سندھ پر پاکستان کا حق تھا، ہے اور  ہمیشہ  رہے گا۔

دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سربراہ اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایس۔ جے شنکر ضرورت پڑنے پر دہشت گردی کا مسئلہ اٹھائیں گے۔